Daily Ausaf:
2026-07-24@10:49:43 GMT

مودی کے بیانات، خطے میں آگ یا راکھ؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
اقوامِ متحدہ اورانسانی حقوق کی تنظیمیں جن کے دفتروں کی دیواروں پرانسانیت کے عظیم اصول آویزاں ہیں،وہ مودی کےان بیانات پریاتو خاموش ہیں یاایسے دیکھ رہی ہیں جیسے کسی ناول کے کردارجومکالمہ نہیں،فقط تماشاکرتے ہیں۔حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکی شق(2) اور4))واضح طورپرکسی بھی ملک کودوسرے ملک کے خلاف طاقت یااس کی دھمکی سے باز رہنے کاپابندبناتی ہے۔ مگریہاں سوال اخلاقی جرات کاہے اورتاریخ گواہ ہے کہ طاقتورکے خلاف زبان کھولناہمیشہ کمزوردلوں کےبس کی بات نہیں رہی۔اگریہ بات دنیاکے سامنے پوری صداقت کےساتھ لائی جاتی ہےتویہ صرف مودی کانہیں،بلکہ اسرائیل کے عسکری جنون اورامریکی خاموشی کابھی پردہ چاک کرنےکالمحہ ہوگا۔اس سے قبل کہ اسرائیل کی مداخلت جنگ کانیامحاذ کھول دےتواس وقت تک بہت دیرہوجائے گی اوراس جنگ کو سنبھالناکسی کے بس میں نہ ہوگا۔جب دشمن کھلی دھمکی دے اوردنیاخاموش رہے،توخاموشی کاتقاضہ یامزاحمت کا بھرپور مظاہرہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ خاموشی فقط حکمت نہیں بلکہ بزدلی کی چادر اوڑھے ہوئےظلم کی خاموش ساتھی بن جاتی ہے۔ پاکستان،جس نے ہمیشہ امن کی بات کی،اورعالمی سطح پرسفارتی وقارکے ساتھ اپنے اصولی موقف کو اجاگرکیاسوال یہ ہے کیا عالمی برادری مودی کی دھمکیوں پر نوٹس لے سکتی ہے؟
مودی کی جانب سےپاکستانی شہریوں کوگولیوں سے اڑانے کی کھلی دھمکی بین الاقوامی قوانین،اقوام متحدہ کےمنشور،اوربنیادی انسانی حقوق کے تمام معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔یہ بیان کسی سیاسی اختلاف کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک کی جانب سے دوسرے ملک کے شہریوں کے خلاف نسلی وریاستی دہشت گردی کا کھلااعلان ہے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی شق2 اور 4 ہرملک کواس بات سے روکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی دے۔اسی طرح انسانی حقوق کاعالمی اعلامیہ اورجنیواکنونشنزبھی اس قسم کے بیانات کونسل کشی،اشتعال انگیزی اورجنگی جرائم کے زمرے میں شمارکرتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے:کیااقوام عالم ایسے بیانات پرکوئی عملی قدم اٹھائیں گی؟ماضی کاتجربہ بتاتاہے کہ جب ایسے جارحانہ بیانات کسی بڑے تجارتی یادفاعی اتحادی ملک کی جانب سے آتے ہیںجیسے بھارت امریکا، اسرائیل اوریورپی طاقتوں کے ساتھ ہے تو ’’عالمی ضمیر‘‘ اکثر مصلحت کاشکارہوجاتاہے۔اس کے باوجوداقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اس معاملے کو اٹھایا جاسکتاہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پررپورٹس جاری کرسکتی ہیں۔یورپی پارلیمنٹ میں قراردادپیش کی جاسکتی ہے۔عالمی عدالتِ انصاف میں اسے جنگی نفرت انگیزی قراردیا جاسکتاہے لیکن اس سب کے لئے پاکستانی سفارتکاری، میڈیا،اور سول سوسائٹی کو فوری، متحداورسنجیدہ کوشش کرنی ہوگی تاکہ عالمی رائے عامہ کو مودی کے جنگی جنون سے آگاہ کیاجاسکے۔عالمی میڈیامیں مودی کے بیانات کوجنگی اشتعال انگیزی کے طورپرپیش کرے اور سب سے بڑھ کر،قوم کے اندر سیاسی استحکام، یکجہتی، اورداخلی ہم آہنگی کوفروغ دے تاکہ ہردھمکی،ہروار،ہرحملہصرف قوم کی یکجہتی سے ہی پسپاہو۔
مودی کے حالیہ بیانات محض انتخابی جلسوں کی لفاظی نہیں بلکہ خطے کے امن کوتہہ وبالا کرنے والاذہنی ونظریاتی خاکہ ہے۔اقوامِ عالم کواگرواقعی خطے میں امن عزیزہے،توانہیں اس اشتعال انگیزی کانوٹس لیناہوگا، ورنہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس یہ دوممالک اگر جنگ کی جانب بڑھتے ہیں تواس کا ایندھن صرف جنوبی ایشیا نہیں بلکہ ساری دنیابن سکتی ہے۔
پاکستان کوچاہیےکہ سفارتی سطح پرمودی کے بیانات کواقوامِ متحدہ،اوآئی سی،یورپی یونین اورعالمی میڈیاکے سامنے بھرپورانداز میں اٹھائے۔اسی طرح امریکا،اسرائیل اوربھارت کے درپردہ گٹھ جوڑکوبے نقاب کرکے دنیاکوبتایاجائے کہ یہ’’امن کی ثالثی‘‘نہیں بلکہ ’’جنگی جرائم پرپردہ ڈالنے‘‘کی کوشش ہے۔مستقبل کی راہ میں جارحیت اورنفرت کی بجائے حکمت ،تحمل اورسفارتی آداب کواپنانا ضروری ہے۔سیاسی قائدانہ صلاحیت اسی میں ہے کہ کشیدگی کوکم کیاجائے،بات چیت کے دروازےکھلےرکھےجائیں اورخطے کی بھلائی کے لئے مشترکہ حل تلاش کیے جائیں۔ مودی کے دھمکی آمیزالفاظ شایدعارضی طورپرقومی جذبے کوجلابخشیں،مگرتاریخ انہیں یادرکھے گی یاتوطاقت کی علامت کے طورپریاایک ایسی دھنک کے طورپرجوطوفان کے بعد غائب ہوجاتی ہے۔خاموشی تب ہی سنہری ہوتی ہے جب وہ طاقت کی علامت ہو،ورنہ وہ زوال کی پیشگی خبرہوتی ہےاورکسی بھی ملک کی خودداری یاسلامتی کے لئے نقصان دہ ہے۔بین الاقوامی برادری کوچاہیےکہ وہ بھارت کوسفارتی اور اخلاقی طورپرجوابدہ بنائے۔اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپرایسے بیانات کی مذمت اور امن کے فروغ کے لئے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔اب اقوام عالم کی ذمہ داری اورایک بڑاامتحان ہے کہ وہ بھارتی قیادت کوخبردارکرے کہ:آئندہ وہ ایسے متنازعہ بیانات سے گریز کرے اورخطے میں امن قائم رکھنے کی کوشش کرے۔خطے کے ممالک میں اعتمادسازی کی کوششیں تیزکی جائیں۔بات چیت کے ذریعےاختلافات کوکم کرنے اوردیرپاامن قائم کرنے کی کوششوں کو بڑھایاجائے۔ بھارت،پاکستان اورچین کے درمیان اعتماد بڑھانے کے لئے مثبت اقدامات کیے جائیں۔پاکستان اورچین کی حکمت عملی ماڈل سے استفادہ کیاجائے۔حکمت عملی اورتحمل کے ذریعے خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کوممکن بنایا جائے۔عالمی برادری سے تعلقات بہتر بنائےجائیں تاکہ خطے میں استحکام ممکن ہوسکے۔ بھارت کوچاہیے کہ وہ پاکستان اورچین کے ساتھ بات چیت کوترجیح دے تاکہ دیرپاامن کا راستہ کھلے۔عوام میں امن اوررواداری کے فروغ کے لئے تعلیمی اورمیڈیاکی سطح پرپروگرام ترتیب دیے جائیں۔تاکہ نفرت اورجارحیت کی فضاکوکم کیاجاسکے۔
مودی کے حالیہ بیانات محض انتخابی جلسوں کی لفاظی نہیں بلکہ خطے کے امن کوتہہ وبالاکرنے والاذہنی ونظریاتی خاکہ ہے۔اقوامِ عالم کواگرواقعی خطے میں امن عزیزہے،توانہیں اس اشتعال انگیزی کانوٹس لیناہوگا، ورنہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس یہ دوممالک اگر جنگ کی جانب بڑھتے ہیں تواس کاایندھن صرف جنوبی ایشیانہیں بلکہ ساری دنیابن سکتی ہے۔ پاکستان کوچاہیے کہ سفارتی سطح پرمودی کے بیانات کواقوامِ متحدہ،اوآئی سی،یورپی یونین اورعالمی میڈیاکے سامنے بھرپورانداز میں اٹھائے۔اس طرح امریکا، اسرائیل اوربھارت کے درپردہ گٹھ جوڑکوبے نقاب کرکے دنیاکوبتایاجائے کہ یہ’’امن کی ثالثی‘‘نہیں بلکہ ’’جنگی جرائم‘‘ پرپردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔اورآخرمیں،ایک حکایتِ دانش وقت جب بولتاہے،توقوموں کوتاریخ بنادیتاہے اورجوقومیں اس کی آوازکونظراندازکریں،وہ عبرت کا افسانہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان اورچین نے اس لمحے کوپہچان لیااورجو لمحے کوپہچان لے،وہ زمانے کابادشاہ ہوتاہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان اورچین مودی کے بیانات اشتعال انگیزی اقوام متحدہ نہیں بلکہ کی جانب کے خلاف کی کوشش

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ