جے یو آئی نے 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا بل مسترد کردیا، مزاحمت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) نے 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کے بل کو مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کرنے کا اعلان کردیا۔
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم قرآن و سنت کے منافی کسی قانون کو نہیں مانتے، اس قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی جلسے کیے جائیں گے اور دیگر اقدامات بھی کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا، لیکن اس کی اسلامی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے، جو ہمیں قبول نہیں۔ آئین میں واضح ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اب 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کے حوالے سے یو این قرارداد کا حوالہ دیا جارہا ہے، یہ حکمران آئین کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے بھی مجرم ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں نکاح کو مشکل اور زنا کو آسان بنایا جارہا ہے، ہم 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں بڑا اجتماع کریں گے، جس میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جائےگا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دین میں شادی کے لیے عمر کی حد نہیں بلکہ بلوغت کی شرط رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی حدود میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کو جرم قرار دیتے ہوئے قانون سازی کی ہے، جس کی خلاف ورزی پر سزا مقرر کی گئی ہے۔ یہ بل صدر مملکت کے دستخط کے بعد قانون بن گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوغت جمعیت علما اسلام جے یو آئی زنا صدر مملکت کم عمر شادی مزاحمت مولانا فضل الرحمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوغت جمعیت علما اسلام جے یو ا ئی صدر مملکت مولانا فضل الرحمان وی نیوز سال سے کم عمر بچوں کی شادی مولانا فضل الرحمان جے یو ا ئی نے کہاکہ
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔