کوہستان کرپشن اسکینڈل نگران دور کا ہے جس کا مولانا فضل الرحمان کی جماعت حصہ تھی، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پشاور:
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ کوہستان کرپشن اسکینڈل نگران دور حکومت کا ہے جس کا مولانا فضل الرحمان کی جماعت حصہ تھی۔
جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کے ساتھ ٹانگہ پارٹیاں عوامی رابطہ مہم ضرور چلائیں لیکن عوام کو بھی ساتھ نکالیں آج ان جماعتوں کے ساتھ عوام ہوتی تو ان کی ایسی سیاسی حالت نہ ہوتی، وہ گزشتہ روز پشاور میں اقلیتی برداری کے نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔
مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمن جس کوہستان سکینڈل کی بات کررہے تھے وہ نگران دور حکومت کا تھا اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت اسی دور حکومت کا حصہ تھی موجودہ حکومت نے تو اس اسکینڈل کا سراغ لگایا اور 20 ارب روپے برآمد کیے ہم ان سے مزید 20 ارب روپے برآمد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلے کیے جارہے ہیں چترال سے پی ٹی آئی کے ایم این اے اور معاون خصوصی وزیرداہ کو سزائیں دی گئیں، ان اقدامات سے ہمیں ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا، اور نہ ہماری مقبولیت ختم کی جاسکتی ہے، قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے، ہم عوامی طاقت سے ان کی حکومت بھی گرائیں گے اور ان ہی عدالتوں سے سزا بھی دلوائیں گے، بانی چیرمین ہمیشہ سے تحریک انصاف اور اس عوام کی قیادت کررہے ہیں۔
مشیر طلاعات نے مزید کہا کہ ہماری تحریک جاری ہے یہ الزامات غلط ہیں کہ پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک ہے یا پی ٹی آئی کی قیادت بانی چیئرمین کو رہا کرانے میں ناکام ہوگئی ہے، عوام کو شعور دینے کے لیے مہم جاری ہے، ہماری اگلی تحریک کا جلد آغاز ہوگا، خیبرپختونخوا کا بجٹ 13 جون کو پیش ہوگا جس میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔
پنجاب بار بھی پاکستان کا حصہ ہے، وکلاء نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں اور دے رہے پیں اگر صوبائی حکومت نے کابینہ سے منظوری کے بعد پنجاب بار کو فنڈز دیے ہیں تو اس پر کیوں تکلیف ہورہی ہے، ہم نے وسائل سے پنجاب بار کو فنڈز دیے ہیں اوروں نے تو صوبوں کے فنڈز جیبوں اور تجوریوں میں ڈالے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس