بھارتی چیف آف ڈیفنس کے انکشافات پر کانگریس کے صدر نے آپریشن سندور پرسوالات اٹھا دیئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کے انکشافات نے مودی حکومت کی دفاعی حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
بلومبرگ کو انٹرویو میں جنرل انیل چوہان نے اعتراف کیا تھا کہ ہم نے کارروائی میں غلطی کو درست کیا، دو دن بعد دوبارہ طیارے اڑائے اور نشانے لگائے۔
دوسری جانب کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دفاعی ناکامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کے لئیے کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر نئی کمیٹی بنائی جائے۔
لکارجن کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے تاکہ قوم کو سچ بتایا جا سکے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہےکہ مودی حکومت نے جنگی صورتحال میں عوام کو لاعلم رکھا، اصل حقائق اب سامنے آ رہے ہیں۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ہمیں پاکستان کیخلاف لڑائی میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی پر سوال اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی بار بار جنگ بندی پر ثالثی کی بات بھارتی خودمختاری کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی سرکار سے سوال کیا کہ حکومت نے واقعی امریکہ کے کہنے پر جنگ بندی قبول کی؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ مودی صرف مسلح افواج کی بہادری کا کریڈٹ لیتے ہیں، مگر پالیسی فیصلوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جنگ بندی کی شرائط کیا ہیں؟ کب طے ہوئیں؟ عوام کو کیوں اندھیرے میں رکھا گیا؟
ملکارجن کھڑگے کا کہنا تھا کہ 140 کروڑ بھارتی شہریوں کو سیزفائر معاہدے کی تفصیلات جاننے کا پورا حق ہے۔ کانگرس پارٹی آزاد کمیشن کے ذریعے دفاعی تیاریوں کے جائزے کا مطالبہ کرتی ہے۔
بھارت میں مودی کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید
انڈین نیشنل کانگریس کے چیئرمین برائے میڈیا اینڈ پبلکسٹی ڈپارٹمنٹ، پون کھیرا کا آپریشن سندور اور مودی کی ناکامی سے متعلق اہم بیان سامنے آیا ہے۔
پون کھیرا نے کہا کہ آپ کی خارجہ پالیسی کہاں ہے؟ پاکستان تو عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کویت نے پاکستان پر ویزا پابندیاں ختم کر دیں، کولمبیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، پون کھیرا نے مودی سے سوال کیا کہ بتائیں کون سا ملک آج بھارت کے ساتھ کھڑا ہے؟
انڈین نیشنل کانگریس کے چیئرمین برائے میڈیا کا کہنا تھا کہ بھارت کیلئے یہ افسوسناک لمحہ ہے کہ روس بھی اب پاکستان کے ساتھ معاہدے طہ کر رہا ہے۔
پون کھیرا کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے قریبی دوست روس نے پاکستان کے ساتھ 2.
انہوں نے کہا کہ چین اور روس، پاکستان کی ساتھ کھڑے ہیں اور امریکہ بھی بھارت کو دھمکا رہا ہے، یہ حقیقت ہے مودی کی خارجہ پالیسی کی۔
پون کھیرا نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی خارجہ پالیسی یا ملکی سیکیورٹی پر سوال اٹھاؤ تو غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی سفارتی اور خارجہ پالیسی پر سوال اٹھ رہے ہیں، جو کہ اٹھنے چاہیے۔
دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی سفارتی فتح، ہر ملک پاکستان سے معاہدے کر رہا ہے اور بھارت تنہائی کا شکار ہے، مودی اپنی ہر کوشش کے باوجود پاکستان کے ہاتھوں اپنی بدترین شکست کو چھپا نہیں سکتا۔
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملکارجن کھڑگے نے کی خارجہ پالیسی پاکستان کے ساتھ کہنا تھا کہ مودی حکومت پون کھیرا نے کہا کہ مودی کی کا کہنا پر سوال رہا ہے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔