بھارتی وزیر اعظم مودی کی سندور سیاست ہندو خواتین کے جذبات سے کھیلنے کی شرمناک کوشش
میرا شوہر زندہ ہے، مودی کون ہوتا ہے مجھے سندور دینے والا؟بھارتی خاتون کی صحافی سے گفتگو

مودی کی ’’سندور سیاست‘‘ ہندو خواتین کے جذبات سے کھیلنے کی شرمناک کوشش، بھارتی خواتین نے کھری کھری سنا دیں ۔تفصیلات کے مطابق پہلگام حملے کے بعد عوامی ردعمل کے پیش نظر مودی سرکار نے ’’سندور ڈرامہ ‘‘رچا دیا لیکن پھر منہ کی کھانی پڑی ،مودی سرکار کی اس کوشش کو ہندو خواتین نے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی’’ شرمناک حرکت ‘‘ اور نا قابل برداشت قرار دیدیا ۔بھارتی ہندو خواتین نے اس معاملے پر مودی کو کھری کھری سناڈالیں ۔ انکا کہنا ہے کہ ’’مودی پہلگام میں مرنے والوں کے لواحقین سے ملنے کی بجائے گھر گھر سندور بھیج کر جھوٹی ہمدردی بٹور رہا ہے، ہم مودی کی سندور سیاست کو بری طرح مسترد کر تے ہیں ۔ایک بھارتی خاتون نے خاتون صحافی سے گفتگو میں یہاں تک کہہ ڈالا کہ ’’میرا شوہر زندہ ہے، مودی کون ہوتا ہے مجھے سندور دینے والا؟، کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کوئی ڈاکو (مودی) کسی کے گھر میں سندور لے کر آیا ہو؟مجھے شرم آتی ہے کہ ہمارے ملک کا وزیرِ اعظم اتنی گری ہوئی باتیں کر رہا ہے۔ایک اور ہندو خاتون نے کہا کہ ’’اگر مودی سندور لے کر آئیں گے تو ہم اسکا کیا کریں گے، یہ پھر میں مودی کو بتاؤں گی، میں ہندو ہوں مگر مودی کی حرکتوں پر شرم آتی ہے, اُسے خود سمجھ نہیں، ہمیں کیا سمجھائے گا؟‘‘نیہا سنگھ راٹھور نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ ’’ہندو مذہب میں صرف اپنے پتی کا دیا ہوا سندور ہی لگایا جاتا ہیکسی پرائے مرد کا نہیں، بہار سے کروڑوں لوگ روزگار کے لیے باہر جاتے ہیں اور ان کی بیویاں شوہر کے نام کا سندور لگاتی ہیں،مودی ووٹ بینک حاصل کرنے کے لیے بہار کی خواتین کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مودی سرکار یہ سوال دبانا چاہتی ہے کہ بہار کے لوگ بے روزگار کیوں ہیں اور سندوری لال خواتین کو صرف سندور میں الجھانا چاہتی ہے‘‘۔ایک اور ہندو خاتون نے کہا کہ ’’مودی جی کے بھیجے گئے سندور پر پہلا حق اُن کی اپنی بیوی کا بنتا ہے،جب مودی اپنی بیوی کو ہی سندور نہیں دے سکتے تو ملک بھر کی خواتین کا انکے بھیجے سندور پر کیا حق بنتا ہے؟‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جذبات سے کھیلنے کی ہندو خواتین سندور سیاست مودی کی مودی کو

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور