انوکھا قصبہ، جہاں جانے والے ہر بزرگ کو ان کی جوان محبت مل جاتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
بینکاک(نیوز ڈیسک)تھائی لینڈ کے ساحلی شہر ہوا ہِن میں کچھ مخصوص خواتین کی موجودگی اس علاقے کی شہرت کا باعث بن کی ہے۔ یہاں آنے والے اکثر سیاح محبت کی تلاش میں ہوتے ہیں، اور انہیں یہاں مطلوبہ محبت مل بھی جاتی ہے۔
یہاں دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی غیرملکی کمیونٹیوں میں سے ایک آباد ہے جن میں ایک ہزار سے زائد برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں اکثریت عمر رسیدہ اور تنہا مردوں کی ہے جو ایک نئی محبت اور خوشگوار ریٹائرمنٹ کے خواب لے کر یہاں آتے ہیں، اور اکثر ایسی لڑکیوں کے ساتھ رہتے ہیں جن کی عمر ان کی پوتیوں جتنی ہے۔
مقامی اخبار ”ہوا ہن ٹوڈے“ کے حالیہ سروے کے مطابق یہاں کے 81 فیصد غیرملکی مرد ہیں، جن میں سے نصف کی عمریں 66 سے 75 کے درمیان ہیں۔ 96.
مگر حالیہ برسوں میں کچھ واقعات نے اس خوبصورت شہر کی تصویر کو دھندلا کر دیا ہے۔ برطانوی سابق فوجی افسر گریم ڈیوڈسن کی گرفتاری نے سب کو چونکا دیا۔ وہ اپنی آسٹریلوی بیوی کی ہلاکت کے بعد یہاں منتقل ہوئے تھے اور اب ان پر قتل کا الزام ہے۔
ڈیوڈسن جیسے کئی غیرملکی مرد یہاں اپنا ماضی پیچھے چھوڑ کر آتے ہیں۔ کچھ کے لیے یہ نیا آغاز ہوتا ہے، تو کچھ کے لیے ماضی سے فرار۔ 65 سالہ مارک جو اپنی 30 سالہ شادی کے خاتمے کے بعد یہاں آئے، کہتے ہیں کہ ’انگلینڈ میں اب میں محفوظ محسوس نہیں کرتا اور وہاں کی خواتین میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ یہاں تو لڑکیاں خود مردوں سے بات چیت کرتی ہیں۔‘
ایسے ”ریٹائرمنٹ ویزے“ جو 50 سال سے زائد عمر کے غیرملکیوں کو دیے جاتے ہیں اس نئی زندگی کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ صرف ایک مخصوص رقم یا پینشن ہونا کافی ہے۔
مارک اس وقت ایک 38 سالہ تھائی خاتون کے ساتھ رشتہ رکھے ہوئے ہیں مگر وہ جانتے ہیں کہ وہ عورت ایک جرمن مرد کے ساتھ بھی تعلق میں ہے جو اسے مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ مارک جیسے کئی مرد اپنی جائیداد محفوظ رکھنے کے لیے شادی سے گریز کرتے ہیں یا معاہدے کرواتے ہیں تاکہ زمین ان کے قبضے میں رہے۔
ہوا ہِن کی جائیداد بھی ان بزرگوں کے لیے پرکشش ہے جہاں ایک عالیشان ولا 60 ملین تھائی بھات (تقریباً 1.36 ملین پاؤنڈ) یعنی 512 ملین پاکستانی روپے میں دستیاب ہوتا ہے۔ مگر یہاں بھی بعض خواتین شوہروں سے زمین کا قبضہ لینے کے بعد غائب ہو جاتی ہیں جس کے لیے اب نئے قانونی معاہدے بنائے جا رہے ہیں۔
رات کے وقت جب ”واکنگ اسٹریٹ بار“ جیسے مقامات پر جایا جائے تو نوجوان تھائی خواتین کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں جو ان غیرملکی مردوں کو محبت اور راحت فراہم کرتی ہیں۔ ان خواتین کی کمائی زیادہ تر مشروبات پر کمیشن سے ہوتی ہے اور بہت سی لڑکیاں دیہی علاقوں سے یہاں بہتر زندگی کی تلاش میں آتی ہیں۔
یہ قصبہ شاید دنیا کا واحد ایسا مقام ہو جہاں بڑھاپے میں بھی نئی محبت، نئی زندگی اور نیا جوش ملتا ہے لیکن اس کے پیچھے کئی پیچیدہ سچائیاں، نازک تعلقات اور کبھی کبھی خطرناک ماضی بھی چھپا ہوتا ہے۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی ضلع پشاور کی تمام تنظیمیں تحلیل، پارٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔