Express News:
2026-06-03@07:24:46 GMT

یوم تکبیر اور معرکہ حق بنیان مرصوص

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے۔ بلوچستان کے علاقے چاغی میں ارتعاش پیدا ہوا، ارتعاش دراصل پاکستان کے ناقابل تسخیر ہونے کا اعلان تھا، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار ہوگیا اور پاکستان کو دنیا کی ساتویں، پہلی اسلامی ایٹمی ریاست ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور پاکستان نے بھارت کا خطے میں بالادستی کا خواب چکنا چور کر دیا۔

پاکستان نے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا، اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بھارت کے تکبر اور غرور کا یہ عالم تھا کہ اس کے سائنسدانوں کی طرف سے یہاں تک کہا گیا کہ کمپری ہینسو ٹیسٹ بین ٹریٹی CTBT بھارت کے لیے نہیں کمزور ممالک کے لیے ہے مگر خدا کو اس ارض وطن پر دشمنان اسلام کے عزائم کی کامیابی کسی صورت گوارانہ تھی جس کے چپے چپے پر ابھی تک پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ جسے روکنے کے لیے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔ پاکستان کے اس اقدام کو امریکا اور یورپ کی تائید حاصل نہ تھی۔

یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکا نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ دوسری طرف بھارت کی معاندانہ سرگرمیوں کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت نے ایٹمی دھماکا کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کردی تھی۔

اس طرح پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ اور امور کشمیر کے انچارج ایل کے ایڈوانی نے بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ مجاہدین کے کیمپ تباہ کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں داخل ہوجائے جب کہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے تو یہاں تک ہرزہ سرائی کی تھی کہ بھارتی فوج کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کردیا جائے گا۔

یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی تیاریاں تھیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے اپنے حق کا استعمال کیا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا واضح مقصد صرف اور صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اور ایک طاقتور ملک ہونے کا ثبوت دیکر پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک پر اپنی برتری جتانا تھا۔

اس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پاکستان کے بارے میں لہجہ ہی بدل گیا تھا۔’’تکبیر‘‘ کا مطلب ہے اللہ اکبر، اور یہ دن اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا اعلان کر دیا۔ ایٹمی تجربات نے ثابت کیا کہ پاکستان خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کریگا اور یوم تکبیر پیغام ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا انجام عبرتناک ہو گا۔

وطنِ عزیز کے دفاع اور سلامتی کا تقاضہ تھا کہ تمام تر مصلحتوں اور دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفاد کے پیش نظر مشکل فیصلے کیے جائیں۔ عالمی دباؤ کے باوجود 28 مئی کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور پاکستانی فوج کے قومی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن بھی ہے۔

ہم ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر ذوالفقار علی بھٹو اور ان سائنسدانوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنھوں نے اسے جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ولولہ انگیز شخصیت نے پاکستان کو دنیا میں وہ مقام دلایا جسے تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور روحِ رواں تھے اور ڈاکٹر ثمر مبارک تجرباتی ٹیم کے سربراہ سائنسدان تھے۔ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ مئی کے مہینے میں ہی بھارت نے اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لیے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر طاقت کے نشے میں پاکستان پر دھاوا بول دیا۔ پاکستان کی معاشی سیاسی اور سفارتی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اس بار بھی بھارت کا خیال تھا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا اور خطے میں ایک ناقابلِ تسخیر معاشی و فوجی قوت کے طور پر بہ آسانی تسلیم کر لیا جائے گا، لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی، جدید ترین ہتھیاروں، عددی فوجی برتری اور اسرائیل کی کھلی امداد کے باوجود بھارت کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔

بھارت کو ایسے دندان شکن جواب کی ہرگز توقع نہ تھی۔ اسے اسرائیل کی پشت پناہی، امریکی آشیر باد، فرانس کے فراہم کردہ رافیل طیاروں اور روسی جدید ترین دفاعی آلات کا کچھ زیادہ ہی گھمنڈ تھا۔ بدلے میں پاکستان کے شاہینوں نے اس کی توقعات کے برعکس شدید ترین اور منہ توڑ جواب دے کر اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا تو اسے راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔

ہمارے سپوتوں نے دشمن پر جس دلیرانہ انداز میں اپنی دہاک بٹھائی ہے اْسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ مئی کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رہے گا۔ ہندوستان کو وہ سبق سکھایا ہے کہ ان کی آنیوالی نسلیں بھی یاد رکھیں گی، اگر آج ہم ایٹمی قوت کے حامل نہ ہوتے تو صورتِحال ایسی نہ ہوتی جیسی آج ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے 10 مئی 2025 کو آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز بھارتی فوج کی بزدلانہ جارحیت کے رد عمل میں کیا گیا، جو 6 اور 7 مئی 2025 کو شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی شہادت ہوئی جس میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔

پاکستان نے حملوں کا بدلہ لینے اور انصاف کی فراہمی کا عزم کیا تھا، پاکستانی فوج نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا۔ دنیا نے دیکھا کہ کئی گنا بڑے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے میں چند گھنٹے لگے، جو طیارے بھارت کا غرور تھے اب راکھ اور نشان عبرت بن چکے ہیں۔ ہمارے شاہینوں نے دشمن پر کاری ضربیں لگائیں، یہ ہمارا دندان شکن جواب تھا۔ پاکستان کی بہادر اور پیشہ ورانہ مسلح افواج نے دشمن کو اسی کی زبان میں مؤثر اور بھرپور جواب دے کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا ہے اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

دشمن کے فوجی اڈے، اسلحے کے انبار اور ایئر بیسز دیکھتے ہی دیکھتے سب کھنڈرات بن گئے، ان کے رافیل ہمارے شاہینوں کے نشانے پر آئے اور اللہ کے فضل سے ناکام ہوگئے۔ہماری یہ کارروائی اس بوسیدہ نظریے کے خلاف تھی جو انسان دشمنی، جارحیت، مذہبی جنون اور تعصب پر قائم ہے، یہ ہماری غیرت اور اصولوں کی فتح ہے، یہ افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ خود دار، غیرت مند اور باوقار پاکستانی قوم کی کامیابی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے پاکستان کی کہ پاکستان پاکستان نے بھارت کے کہ بھارت کے خلاف کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد