جنوبی ایشیائی خطے میں نیوکلیئر تصادم یا دوستانہ تعلقات
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
حال ہی میں شنگریلا ڈائیلاگ میں بریفنگ دیتے ہوئےچیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل شمشاد مرزا نے کہا کہ جنوبی ایشیائی خطے میں نیوکلیئر تصادم کا خطرہ موجود ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، جس کا حل ناگزیر ہے۔
ان کے اس بیان میں عالمی طاقتوں کےلیے کھلا پیغام ہے کہ اس خطے میں خصوصاً پاک بھارت تعلقات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کرنا انتہائی خطرناک ہوگا۔ درحقیقت یہ خطرہ اب سب ہی محسوس کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کو پاک بھارت کی حالیہ پیدا ہوتی جنگ کو فوراً ہی سیز فائر کی جانب لانے کےلیے درمیان میں آنا پڑا حالانکہ اس سے چندروز قبل ہی وہ کہہ رہے تھے کہ وہ پاک بھارت معاملے میں ’نیوٹرل‘ رہیں گے۔
بلاشبہ خطے کے ان نئے حالات کا سب کو ادراک ہے، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو بھی اچھی طرح اندازہ ہے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ( سربراہ عوام پاکستان پارٹی) نے بھی گزشتہ روز ’ہیمون پیس فورم انٹرنیشنل‘ کے زیر اہتمام ’جنوبی ایشیا کی سیاسی و جغرافیائی صورتحال میں پاکستان کو درپیش چیلنج‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ پاکستان حال ہی میں سرحدوں کے محاذ پر بھارت کو شکست دے چکا ہے اور دنیا میں ہماری فوج کی برتری ثابت ہوچکی ہے لیکن دیگر محاذ پر ہمیں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گو کہ ہماری فوج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے مگر اس موقع پر بھی بہت سے ممالک پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبدار رہے کیونکہ ان کے بھارت کے ساتھ اچھے تجارتی تعلقات تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے تجارت کو بھی فروغ دینا ہوگا اور پڑوسیوں سے بھی برابری کی سطع پر اچھے تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔
اس موقع پر مفتاح اسمٰعیل اور ڈاکٹر شجاعت حسین نے بھی اظہار خیال کیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل شمشاد مرزا سمیت تمام لوگوں کے خیالات اپنی جگہ درست ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ان حالات کو نہ صرف بین الاقوامی برادری سمجھے اور اپنا فعال کردار ادا کرے بلکہ خود بھارت اس صورتحال کو اور ان زمینی حقائق کو سمجھے۔ اب نہ تو دنیا اس پرانے ’دو قطبی‘ نظام والے دور میں ہے کہ اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی سے پاکستان میں 1971 کی تاریخ دہرائی جاسکے اور نہ ہی پاکستان دفاعی لحاظ سے اس قدر کمزور ہے کہ کوئی ’سرجیکل آپریشن‘ کرکے پاکستان کو دباؤ میں لایا جاسکے۔
بات سیدھی سی ہے کہ اب دونوں ملکوں کی ضرورت ہے کہ اس خطے میں امن قائم ہو، آپس میں نہ صرف تجارت ہو بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کی اجازت ہو، بالکل اسی طرح جس طرح کہ پاکستانی اور بھارتی عوام دیگر کسی ممالک میں سفر کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام بے شمار مسائل میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے دانشور ایک دوسرے کے ملک میں ہونے والے پروگراموں میں نہیں جاسکتے، دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ میچ کا ہونا بھی دشوار ہے، سگے رشتے دار برسوں میں بھی اپنے پیاروں سے مل نہیں سکتے۔
دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کی ماضی میں کوششیں ہوتی رہی ہیں مگر جب بھی یہ کوشیشیں کامیاب ہونے لگتی ہیں کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا رونما ہوجاتا ہے کہ جس سے یہ ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہیں۔ نواز شریف نے اپنے دورے حکومت میں بس سروس اور تجارت کے حوالے سے اچھی کوششیں کی تھیں مگر یہ بھی کسی واقعے کی نذر ہوگئیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت لوگوں کی ہجرت تاریخ کی ایک سب سے بڑی ہجرت تھی کہ جس میں لاکھوں خاندان دونوں ملکوں میں تقسیم ہوگئے۔ شروع کی دہائی میں تو یہ خاندان بغیر ویزے کے ایک دوسرے ملک میں باآسانی اپنے رشتے داروں سے ملنے چلے جاتے تھے مگر رفتہ رفتہ دونوں ملکوں کی پالیساں سخت سے سخت تر ہوتی چلی گئیں اور اب یہ حال ہے کہ ویزے کا حصول ہی ناممکن ہوگیا ہے۔
دنیا اب بدل رہی ہے، حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ بنگلہ دیش کے بھی حالات تبدیل ہوئے ہیں اور وہ بھی پاکستان کے ساتھ سفری آسانیاں پیدا کر رہے ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام باآسانی ایک دوسرے کے ہاں آ جا سکیں اور تجارت بھی کرسکیں۔ تجارت کے حوالے سے تو پاکستان اور بھارت کے صرف تاجروں کو ہی نہیں، دونوں اطراف کے عوام کو بھی بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ بہت ساری اشیاء پاکستانی عوام کو سستی مل سکتی ہیں اور اسی طرح بھارتی عوام کو بھی بہت ساری اشیاء سستی مل سکتی ہیں۔ گویا امن اور محبت کا راستہ دونوں ملکوں کےلیے نہایت مفید ہے لیکن اس کو اپنانے کےلیے پہلے ایک دوسرے کے وجود کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا۔
بھارت کا اصل مسئلہ ہی یہ رہا ہے کہ اس نے کبھی بھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا، جس کی ایک وجہ یقیناً بھارت کی سیاسی صورتحال ہے کہ جہاں ووٹ کے حصول کے انتہا پسند جماعتیں پاکستان دشمنی کے نعرے کو استعمال کرتی آرہی ہیں۔ بہرحال پاکستان کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان سے جاری ہونے والے بیانیے خواہ وہ فوج کی جانب سے ہوں یا سیاسی جماعتوں کی جانب سے، سب نے امن، محبت اور برابری کے تعلقات کی بات کی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی حال ہی میں یہی پیغام دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین برابری کی بنیاد پر، اچھے دوستانہ اور تجارتی تعلقات بھی ہونے چاہئیں، اب بھارت کو بھی فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اس کے لیے کیا بہتر ہے، جنوبی ایشیائی خطے میں نیوکلیئر تصادم یا دوستانہ تعلقات؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایک دوسرے کے پاکستان کے کے عوام عوام کو کو بھی
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔