Islam Times:
2026-07-24@09:55:33 GMT

مودی حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے، جے رام رمیش

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

مودی حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے گزشتہ 21 دنوں میں کئی بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنگ بندی کروائی، یہاں تک کہ آپریشن سندور کو بھی رکوانے کا کریڈٹ لیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر اور رکنِ پارلیمان جے رام رمیش نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان کے سنگاپور میں دئے گئے انٹرویو پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو باتیں جنرل چوہان نے سنگاپور میں کہیں، وہ دراصل وزیرِ دفاع کو کل جماعتی اجلاس میں کرنی چاہیئے تھیں اور ان پر باقاعدہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جانا چاہیئے تھا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ جو معلومات جنرل چوہان نے فراہم کیں، وہ نہایت اہم اور سنجیدہ نوعیت کی ہیں۔ ان کا تعلق صرف فوجی حکمتِ عملی سے نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، معاشی اور سفارتی حکمتِ عملی سے بھی ہے، یہ افسوسناک ہے کہ ہمیں یہ سب سنگاپور سے معلوم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع نے دو مرتبہ آل پارٹی میٹنگ کی صدارت کی، مگر اس میں ان باتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سنگاپور سے سی ڈی ایس کی گفتگو کا انتظار کیوں کرنا پڑا، کیا یہ مادرِ جمہوریت ہونے کے دعوے کے خلاف نہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ تین دن بعد کرگل جنگ ختم ہوئی تو اس وقت کے وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئی نے فوری طور پر کرگل ریویو کمیٹی قائم کی تھی، جس کی رپورٹ نہ صرف پارلیمنٹ میں پیش کی گئی بلکہ اسے عام بھی کیا گیا۔ اس رپورٹ میں شامل ایک رکن ڈاکٹر ایس جے شنکر (موجودہ وزیرِ خارجہ) کے والد بھی تھے۔

کانگریس لیڈر نے "آپریشن سندور" کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران چین اور پاکستان کے درمیان گہرے روابط ابھر کر سامنے آئے، جس پر مکمل سیاسی تجزیہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف فوجی معاملہ نہیں ہے، یہ قومی سلامتی، سفارت کاری اور سیاست سے جڑا معاملہ ہے، جس پر پارلیمان اور وزیراعظم کی قیادت میں آل پارٹی میٹنگ میں تبادلہ خیال ہونا چاہیئے۔ جے رام رمیش نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متواتر بیانات پر بھی وزیرِ اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ 21 دنوں میں کئی بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنگ بندی کروائی، یہاں تک کہ آپریشن سندور کو بھی رکوانے کا کریڈٹ لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان کو امریکہ سے تجارت بڑھانی ہے تو جنگ بندی کرنی ہوگی۔ جے رام رمیش کے مطابق ٹرمپ نے ہندوستان اور پاکستان کو ایک ہی کشتی میں بٹھا دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان