سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس میں اہم معاشی اہداف کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد:
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی گئی۔
آئندہ مالی سال کے ممکنہ معاشی اہداف مقرر کرنے کے لیے وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی نےبجٹ 26-2025 کے لیے اہم معاشی اہداف کی منظوری دیدی۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4.
ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے لیے بیرون ملک سے 270 ارب قرض لے گی۔ اس کے علاوہ چاروں صوبے بھی 802 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لیں گے۔
پنجاب حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 1190 ارب خرچ کرے گی۔ اگلے سال سندھ حکومت نے 887 ارب روپےکا ترقیاتی پروگرام تیارکیا ہے۔ خیبرپختونخوا کی جانب سے 440 ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے جب کہ بلوچستان حکومت اگلے سال ترقیاتی منصوبوں پر 280 ارب خرچ کرے گی۔
آئندہ مالی سال کے لیےمعاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد رکھنےکی تجویز ہے۔ رواں سال معاشی شرح نمو 3.6 فیصد ہدف کےمقابلے 2.68 فیصد رہی۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصدمقررکرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلےسال زرعی شعبےکی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد رکھا جائے گا۔ گندم، چاول سمیت اہم فصلوں کا ہدف 6.7 فیصد مقرر کرنےکی تجویز ہے۔ اسی طرح کاٹن جننگ کا ہدف7، لائیو اسٹاک ہدف 4.2 فیصد مقرر ہونے کا امکان ہے۔
علاوہ ازیں بجٹ میں صنعتی شعبےکا ہدف 4.4 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ بڑی صنعتوں کا ہدف 3.5 فیصد،کان کنی کا ٹارگٹ 3فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔ بجلی، گیس اور پانی سپلائی کا ہدف 3.5 فیصد مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئندہ سال تعمیراتی شعبےکا گروتھ ریٹ 3.8 فیصدمقررکرنےکی تجویز ہے۔ شعبہ خدمات کی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیےجانے کا امکان ہے۔ قومی بچت کا 14.3 فیصد،سرمایہ کاری بہ لحاظ جی ڈی پی 14.7 فیصدہدف ہوگا۔
اگلےمالی سال کے لیےکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 0.4 فیصد ہوگا جب کہ پبلک انویسٹمنٹ ہدف 3.2 اور نجی سرمایہ کاری کا ہدف 9.8 فیصد ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں معاشی اہداف کی تجویز ہے فیصد مقرر مالی سال کا ہدف 4
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔