پی ڈی پی کی صدر نے زور دیا کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی محض ایک انتظامی یا آبادیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ تاریخی انصاف، مفاہمت اور کشمیر کے تکثیری مزاج کی بحالی کا معاملہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لئے زمین کی الاٹمنٹ اور سیاسی نمائندگی کی حمایت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی ہے۔ راج بھون میں منعقدہ یہ ملاقات محبوبہ مفتی کی ایل جی سنہا سے پہلی رسمی ملاقات ہے، جن کے خلاف وہ اکثر پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جموں سمیت دیگر ریاستوں سے سینکڑوں کشمیری پنڈت کھیر بھوانی میلہ میں شرکت کے لئے وادی پہنچ رہے ہیں۔ یہ میلہ ہر برس موسم گرما میں وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے تولہ مولہ میں منعقد ہوتا ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے ایل جی کو ایک خط پیش کیا ہے جس میں کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لئے ایک مکمل روڑ میپ شامل ہے۔ ان کے مطابق اس "منصوبے کی بنیاد ہمدردی، باہمی اعتماد اور زمینی حقائق" پر ہونی چاہیئے۔ محبوبہ مفتی نے زور دیا کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی محض ایک انتظامی یا آبادیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ تاریخی انصاف، مفاہمت اور کشمیر کے تکثیری مزاج کی بحالی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہر بے گھر کشمیری پنڈت کنبے کو ان کے اصل ضلع میں آدھا کنال (10 مرلہ) زمین دی جائے بشرطیکہ وہ واپسی پر آمادہ ہوں۔ زمین قانونی طور پر الاٹ کی جائے، بنیادی سہولیات مثلاً سڑک، بجلی، صفائی اور اسکول کی موجودگی کو ترجیح دی جائے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ رہائش صرف پناہ نہیں بلکہ شناخت، وابستگی اور مستقل حیثیت کی علامت ہونی چاہیئے۔

یاد رہے کہ حکومت جموں و کشمیر نے وزیر اعظم پیکیج کے تحت تقریباً چھ ہزار کشمیری پنڈتوں کو مختلف محکموں میں روزگار فراہم کیا ہے۔ ان کے لئے وادی کے تمام دس اضلاع میں رہائشی کالونیاں تعمیر کی گئی ہیں، جنہیں سکیورٹی فورسز تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر اسمبلی کی حلقہ بندی کے بعد نامزدگی کوٹہ کے تحت چار نشستیں مختص کی ہیں، جن میں سے دو صرف کشمیری پنڈتوں کے لئے ہیں۔ ان پر تقرری کا اختیار لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ نامزدگی کے بجائے کشمیری پنڈتوں کو براہ راست انتخابی نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ وہ خطے کے جمہوری مستقبل میں کردار ادا کر سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے کے لئے

پڑھیں:

افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سلور جوبلی پوری تنظیم کیلئے باعث فخر ہے، کرغزستان نےاجلاس کی بہترین میزبانی کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او اب معیشت، ثقافت اور امن کا جامع فورم بن چکی ہے، ایس سی او خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی و تعمیری سفارتکاری کی بنیاد ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کے شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے، افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے، 560 پاکستانی شہید ہوئے، افغان طالبان دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے پر زور دے۔

اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے، مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔ انہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کی دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی روابط اور خطے و عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہماری بھرپور سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ اسلام آباد ایم او یو اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تنازع کے مستقل، پُرامن اور دیرپا حل کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان عناصر کے خلاف ہوشیار رہنے پر زور دیا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور اب تک ہونے والی پیش رفت کو الٹنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی