ایران کا انسانی اسمگلرز کے خلاف کامیاب آپریشن، 10 پاکستانی بازیاب، پاکستان کا اظہار تشکر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ایران میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 10 پاکستانی شہریوں کو بازیاب کرا لیا گیا جنہیں انسانی اسمگلرز نے یورپ لے جانے کا جھانسہ دے کر یرغمال بنایا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 23 ایرانی ماہی گیروں کی جان بچانے پر ایران کا پاک بحریہ سے اظہار تشکر
ایرانی حکام کی کارروائی کے بعد تمام بازیاب افراد کو پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کردیا جس پر پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے ایرانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پاکستانیوں کی مکمل دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور انہیں تمام تر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے اور پاکستانی شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک پیشکش کا شکار نہ ہوں۔
مزید پڑھیے: انسانی اسمگلنگ کا کالا دھندا مکمل طور پر بند کرانے کا پختہ عزم کر رکھا ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف
انہوں نے والدین اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ایجنٹوں اور اسمگلرز کے جھانسے میں آ کر اپنی جان اور مستقبل خطرے میں نہ ڈالیں۔
دریں اثنا پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے بھی اس کامیاب آپریشن پر ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ پاکستان انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانی اسمگلرز ایران پاکستان پاکستانی دفتر خارجہ سفیر مدثر ٹیپو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلرز ایران پاکستان پاکستانی دفتر خارجہ سفیر مدثر ٹیپو
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔