کراچی؛ علاج کے بجائے طالبہ کو زدوکوب کرنے سے متعلق اسپتال انتظامیہ کیخلاف درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی:
ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے جناح کارڈیو اسپتال میں علاج کے بجائے تیماردار طالبہ کو زدوکوب کرنے سے متعلق انتظامیہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
ایڈیشنل سیشن جج جنوبی کی عدالت کے روبرو جناح کارڈیو اسپتال میں علاج کے بجائے تیماردار طالبہ کو زدوکوب کرنے سے متعلق انتظامیہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار عطیہ طارق کے وکیل نوید امین اور سید محمد عبد الکبیر ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔
درخواست گزار کے وکیل نوید امین ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ اسپتال میں درخواست گزار کی ماں کو نارمل کہہ کر علاج سے انکار کر دیا گیا۔ درخواست گزار نے جناح کارڈیو کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ میری والدہ کو دل کا عارضہ ہے لہٰذا اسپتال میں طبی امداد دی جائے لیکن علاج سے انکار پر میری موکلہ نے ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے بدتمیزی کی اور موبائل چھینے کی کوشش کی جبکہ ان کے والد اور والدہ کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ اسپتال عملے کی بدسلوکی پر طالبہ نے گیٹ سے ویڈیو بنانے کی دوبارہ کوشش کی جس پر سیکیورٹی اہلکار نے طالبہ سے موبائل چھینا۔ طالبہ نے جب اپنا موبائل واپس لینے کی کوشش کی تو سیکیورٹی اہلکار نے طالبہ کا ہاتھ پکڑا۔ موبائل اسپتال میں کسی اور کے سپرد کر دیا، اسی دوران طالبہ نیچے گری۔ اس کے بعد سیکیورٹی اہلکار طالبہ کو کمرے میں لے گئے جہاں درخواستگزار کو زدوکوب کیا، مارا پیٹا اور پرس میں سے 50 ہزار نکال لیے۔
وکلاء نے کہا کہ پولیس نے ویڈیو ادھوری پیش کی ہے اور اصل حقائق کو چھپایا گیا ہے۔ وکلاء نے عدالت کو کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز اور نجی اسپتال کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کیں۔ رپورٹ میں درخواست گزار کی والدہ کو دل کا عارضہ بتایا گیا ہے اور ان کی تین شریانیں بند ہیں۔
عدالت میں صدر تھانے کی جانب سے رپورٹ جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے ساتھ کسی بھی قسم کا ناخوشگوار، غیر اخلاقی اور غیر قانونی واقع پیش نہیں آیا ہے۔ درخواست گزار کے تمام الزامات بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہیں۔ درخواست گزار نے موبائل پر ویڈیو بنانے کی کوشش کی جس پر سیکیورٹی اہلکار نے منع کیا، درخواست گزار و دیگر نے سیکیورٹی گارڈ مرد و خواتین کو مارا پیٹا اور یونیفارم کو بھی پھاڑ دیا۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نوید امین ایڈووکیٹ کہا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل داخل کریں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سیکیورٹی اہلکار درخواست گزار کے اسپتال میں کی کوشش کی طالبہ کو
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔