17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی آخری ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، مداحوں کی انصاف کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
چترال سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کی آخری سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہوگئی۔
نوجوان ٹک ٹاکر کی والدہ نے بتایا کہ شام 5 بجے کے قریب نوجوان لڑکا اسلام آباد میں ان کے گھر میں داخل ہوا اور ان کی بیٹی کو سینے میں دو گولیاں مار کر فرار ہوگیا۔ اسلام آباد پولیس نے 20 گھنٹوں کے اندر ملزم کو فیصل آباد سے کرلیا۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم ثنا یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا، مقتولہ کی جانب سے مسلسل پیشکش مسترد ہونے پر عمر نامی 22 سالہ نوجوان نے انتہائی سنگین قدم اُٹھایا۔
View this post on InstagramA post shared by sana (@sanayousaf22)
ثنا یوسف نے آخری مرتبہ اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنی سالگرہ کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی تھیں جو وائرل ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کم انفلوئنسر کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔
صارفین اور ثنا یوسف کو فالو کرنے والے مداحوں کا مطالبہ ہے کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دے کر ٹک ٹاکر کے لواحقین کو انصاف دلوایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ثنا یوسف ٹک ٹاکر
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز