نئے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے مشاورت(وزیراعظم نے عمر ایوب کو مدعو کرلیا)
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
آرٹیکل 218 کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے لیے تجاویز پارلیمانی کمیٹی کو ارسال ہونا ہیں
چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران کی مدت 26 جنوری کو ختم ہوچکی ہے، شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈرکو خط
وزیراعظم شہباز شریف نے نئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تقرری کے لیے مشاورت کاآغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمرایوب کو ملاقات کے لیے مدعو کرلیا۔ نئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تقرری پر مشاورت کے لیے وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر عمرایوب کو ملاقات کی دعوت دے دی۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر عمرایوب کو لکھے گئے خط میں موقف اپنایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران کی مدت 26 جنوری کو ختم ہوچکی ہے، چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران نے آرٹیکل215 کے تحت کام جاری رکھا ہوا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ آرٹیکل 218 کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے لیے تجاویز پارلیمانی کمیٹی کو ارسال ہونا ہیں، نئی تقرریوں کے لیے آپ کو ملاقات کی دعوت دیتاہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی کے لیے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔