اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) الیکشن کمشن سے متعلق سال 2013-14کے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران آڈٹ حکام نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن نے وزیراعظم کی منظوری کے بغیر ملازمین کو 20 فیصد الیکشن الاؤنس دیا۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشن کے ملازمین کو غیر مجاز طور پر رننگ بیسک پے کا 20 فیصد الیکشن الاؤنس دیئے جانے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ الیکشن کمشن نے ملازمین کو یکم مارچ 2013 سے رننگ بیسک پے کا 20 فیصد الیکشن الاؤنس ادا کیا، الاؤنس وزیراعظم کی جانب سے منظور شدہ نہیں تھا ،نہ ہی فنانس ڈویڑن کے ریگولیشنز ونگ کی جانب سے اس کی توثیق کی گئی۔ آڈٹ حکام کے مطابق معاملہ ابھی سپریم کورٹ کی زیر سماعت ہے، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ ای سی پی کے فیور میں دیا، ملازمین کو 20 فیصد الاؤنس مل رہا ہے، کوئی اسٹے آرڈر سپریم کورٹ کی طرف سے نہیں ہے۔ الیکشن کمشن حکام نے کہا کہ ملازمین 20 فیصد الاؤنس لے رہے ہیں،حکام کے مطابق ہائیکورٹ کے فیصلے اور وزیراعظم کی سمری کے مطابق ملازمین الاؤنس کے حقدار ہیں، 20 فیصد الاؤنس تنخواہ کا حصہ ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ معاملہ جائزہ و عملدرآمد کمیٹی کو بھیج دیں، پھر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا، اس پر عملدرآمد کریں۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ اس میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: الیکشن کمشن نے حکام نے کہا کہ ملازمین کو ا ڈٹ حکام کے مطابق

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف