38 برس بعد برطانیہ میں انگریز راج ختم، برطانوی پروفیسر
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
لاہور:
برطانوی یونیورسٹی آف بکنگھم سے منسلک پروفیسر میتھیو گڈون نے مع ٹیم برطانیہ میں مہاجرین کی سالانہ آمد اور تمام آباد قومیتوں کی شرح پیدائش واموات کے سرکاری اعدادوشمار پر تحقیق کر کے حیرت انگیز پیشن گوئی کر دی۔
ان کی پیش گوئی کے مطابق 2063ء تک سب سے بڑی سابق عالمی سپرپاور میں ایک وقت پاک و ہند کے آقا رہنے والے سفید فام طبقے کی آبادی موجودہ 73 فیصد سے کم ہو کر 49 فیصد رہ جائیگی اور وہ اقلیت کہلائے گا،51 فیصد آبادی غیر سفید فام اقوام کی ہوگی۔
اس تبدیلی کی اہم ترین وجہ یہ کہ سفید فام طبقہ بہت کم بچے پیدا کر رہا،اسی لیے 2100ء میں طبقے کی آبادی محض 33.
پروفیسر میتھیو کی تحقیق ہے کہ برطانوی مسلمانوں کی آبادی جو فی الوقت 7 فیصد ہے، اگلے پچیس سال میں بڑھ کر 11.2 فیصد اور صدی کے اختتام تک تقریباً 20 فیصد ہوجائیگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔