ایران میں دو پاکستانیوں کے قتل پر دفتر خارجہ کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں دو پاکستانی شہریوں کو قتل کردیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں دو پاکستانی شہریوں، مجاہد اور محمد فہیم کے قتل کی ایرانی حکام نے تصدیق کردی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور زاہدان میں قونصل خانہ مسلسل ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ واقعے کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں اور لواحقین کو ضروری معلومات فراہم کی جا سکیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی حکام واقعے سے متعلق ضروری مدد اور مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں جبکہ قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل ہوتے ہی دونوں مقتولین کی میتیں وطن واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دفتر خارجہ نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔