احتجاجی تحریک کی سربراہی جیل سے خودکروں گا(عمران خان )
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
جی ڈی اے اورماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، ایکس اکائونٹ پر جاری بیان
باہر میری نمائندگی عمر ایوب کریں گے،سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے،تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا،پیغام
بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ وہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کریں گے، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکائونٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ کی حیثیت سے وہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کریں گے جس میں ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دی جائے گی۔اس پیغام میں کہا گیا کہ یہ اڈیالہ جیل سے عمران خان کا پیغام ہے اور اس کے مطابق جیل سے باہر عمران خان کی نمائندگی عمر ایوب کریں گے جبکہ سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے۔ بیان کے مطابق تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا اور اس احتجاجی تحریک کے لیے پارٹی اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دے گی۔اس بیان میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس بیان میں یہ دعوی بھی دہرایا گیا کہ عمران خان کو تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا۔عمران خان کے اکانٹ سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: احتجاجی تحریک کریں گے جیل سے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔