موسمیاتی تبدیلی کے خلاف تحریک میں انسانی حقوق اہم، وولکر ترک
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 جون 2025ء) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ صحت مند زمین کے بغیر انسان کی بقا ممکن نہیں۔ دنیا کو موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی، منصفانہ اور حقوق کی بنیاد پر طریقے وضع کرنا ہوں گے۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش یہ بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات نئی طرز کی سیاست اور مضبوط قیادت کا تقاضا کرتے ہیں۔
Tweet URLانہوں نے ماحولیاتی نظام کے استحصال پر افسوس اور تنقید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان نے فطرت سے جھوٹی علیحدگی اختیار کر لی ہے اور اس دھوکے کا شکار ہے کہ وہ فطرت کو اپنی خواہش کے مطابق تبدیل کر سکتا ہے جبکہ ایسا ممکن نہیں۔
(جاری ہے)
ہائی کمشنر نے ماحولیاتی انحطاط کو بنیادی ناانصافی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امیر ترین ایک فیصد لوگ غریب ترین دو تہائی آبادی سے زیادہ کاربن خارج کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ جن لوگوں پر موسمیاتی بحران کی بہت کم ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہی اس کے بدترین اثرات جھیل رہے ہیں۔
تبدیلی کی عالمگیر تحریکانہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حسب ضرورت مالی وسائل کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ معدنی ایندھن کے استعمال کو روکنے کے لیے مجوزہ معاہدے کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایسے معاہدے سے تیل، کوئلہ اور گیس نکالنے کے نئے منصوبوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دور حاضر اور مستقبل میں صحت مند زمین پر تحفظ، سلامتی اور مواقع کے ساتھ رہنا تمام ممالک کا حق ہے۔
وولکر ترک نے تمام حکومتوں، اداروں اور افراد پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے مثبت تبدیلی لانے کی عالمگیر تحریک شروع کریں جس کی بنیاد انسانی حقوق، موسمیاتی بحران پر قابو پانے اور مزید مساوی و مستحکم مستقبل کی تعمیر پر ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔