حج 2025: حجاج کی حفاظت کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس 15 ہزار جدید کیمروں کا استعمال
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
مکہ: سعودی حکام نے حج 2025 کے دوران لاکھوں حجاج کرام کی حفاظت اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرونز اور 15 ہزار سے زائد کیمرے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق مکہ اور اس کے گردونواح میں نصب کیمروں کے ذریعے ہجوم کی غیر معمولی نقل و حرکت یا ممکنہ رکاوٹوں کی پیش گوئی کی جاتی ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
جنرل ٹرانسپورٹ سینٹر کے سی ای او محمد نذیر کے مطابق "ہمارے کنٹرول روم میں AI سے لیس خصوصی کیمرے استعمال ہو رہے ہیں جو رش والے علاقوں اور نقل و حرکت کا تجزیہ کرتے ہیں۔"
اس سال تقریباً 14 لاکھ حجاج دنیا بھر سے مکہ پہنچے ہیں، جن کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے 20 ہزار سے زائد بسیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔
مکہ میں قائم مرکزی کنٹرول روم میں متعدد اسکرینز اور نقشے موجود ہیں، جنہیں ماہر عملہ مسلسل مانیٹر کرتا ہے تاکہ ٹریفک، رش اور پیدل چلنے والوں کے درمیان تصادم سے بچا جا سکے۔
یہ جدید نظام 2015 کے خوفناک سانحے کے بعد متعارف کرایا گیا، جب رمی جمرات کے دوران بھگدڑ مچنے سے تقریباً 2,300 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔