کراچی کیلیے بجلی سستی اور باقی ملک کیلیے مہنگی کردی گئی، نوٹی فکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
کراچی کیلیے بجلی سستی اور باقی ملک کیلیے مہنگی کردی گئی، نوٹی فکیشن جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )نیپرا نے ملک بھر کے لیے بجلی 93 پیسے فی یونٹ مہنگی اور کراچی کے لیے بجلی دو روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کردی۔نیپرا کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق کمی اپریل کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی، اضافے کا اطلاق جون کے بجلی کے بلوں میں ہوگا۔
اس کا اطلاق کے الیکٹرک، لائف لائن صارفین اور الیکٹرک وہیکل اسٹیشنز پر بھی نہیں ہوگا۔دریں اثنا کے الیکٹرک کے لیے بجلی 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔ نیپرا کے جاری کردی نوٹی فکیشن کے مطابق یہ کمی مارچ کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے، جون کے بجلی کے بلوں میں ریلیف ملے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنگ میں بھارت کا تماشادنیا نے دیکھا، رافیل ایسے گریجیسے چڑیا گرتی ہیں: مصدق ملک جنگ میں بھارت کا تماشادنیا نے دیکھا، رافیل ایسے گریجیسے چڑیا گرتی ہیں: مصدق ملک بھارت میں مسلمانوں سے نفرت کی لہر کے پیچھے مودی سرکار ہے، سابق ہوم سیکرٹری کی سخت تنقید عمران خان عاصم منیر کی تقرری روکنے کے لئے اسلام آباد پہنچ گئے تھے،عرفان صدیقی ماڑی پور: گھر سے پھندا لگی لاش ملیر جیل سے فرار ہونیوالے قیدی کی نکلی، آخری بیان میں کیا کہا؟ وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ عمران، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل، نیب پراسیکیوشن ٹیم نوٹیفائی کرنے کیلئے مہلتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نوٹی فکیشن
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔