کراچی: کزن کی تصویر استعمال کرکے فیکٹری مالک سے سوشل میڈیا ایپ پر لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں فیکٹری مالک سے سوشل میڈیا ایپ پر کزن بن کر 4 لاکھ 30 ہزار روپے لوٹ لیے گئے، فیکٹری مالک کو کزن کی تصویر لگا کر دھوکا دیا گیا۔
شہری محمد حسن کا کہنا ہے کہ فوری 4 لاکھ 30 ہزار نجی بینک میں خاتون کے اکاؤنٹ میں دینے کو کہا گیا، مجھے بتایا گیا کہ آپ کو عالمی نجی فنڈ ٹرانسفر کمپنی کے ذریعے 13 لاکھ 68 ہزار بھیج دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کراچی: ڈاکو تاجر سے 58 لاکھ روپے لوٹ کر فرار بھارت: آن لائن جاب فراڈ، خاتون سے لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے راولپنڈی کے بازار میں شہری سے 48 لاکھ لوٹ لیے گئےفیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ مجھے فنڈ ٹرانسفر کی رسیدیں بھی بھیجی گئی، فنڈ ٹرانسفر رسیدیں جعلی نکلیں، ملزمان چیٹ ڈیلیٹ کرکے غائب ہوگئے، ایف آئی اے سائبر کرائم کو تحریری درخواست دے دی ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے حوالے سے شکایت موصول ہوگئی ہے، فراڈ کیس سے متعلق تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیکٹری مالک لوٹ لیے گئے روپے لوٹ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔