بلدیہ فیکٹری کیس: ایم کیو ایم نے ہائی کورٹ کے ریمارکس حذف کروانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
سپریم کورٹ کراچی—فائل فوٹو رجسٹری
درخواست میں ایم کیو ایم کے وکیل کی جانب سے موقف اپنایا گیا ہے کہ ایک ملزم کو ایم کیوایم کا یونٹ انچارج لکھا گیا ہے مگر واقعے میں ایم کیو ایم کا بحیثیت جماعت کوئی کردار نہیں تھا۔
متحدہ قومی مومنٹ پاکستان نے کراچی سپریم کورٹ رجسٹری میں بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں شامل کیے جانے والے ریمارکس حذف کروانے کے لیے رجوع کرلیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جج نے ریمارکس شواہد کی روشنی میں دیے ہوں گے؟
سپریم کورٹ آف پاکستان کی کراچی رجسٹری نے شہرِ قائد میں پارک کی بحالی سے متعلق سماعت کے دوران پی ای سی ایچ ایس میں 4 جھیلیں بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
جس پر ایم کیو ایم کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک ملزم کو ایم کیو ایم کا یونٹ انچارج لکھا گیا ہے مگر واقعے میں ایم کیو ایم کا بحیثیت پارٹی کوئی کردار نہیں تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کی سزا کیخلاف اپیل میں ایم کیوایم کے خلاف نا مناسب ریمارکس دیے۔
جس پر عدالت نے ملزمان کے خلاف ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی کاپی طلب کرلی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے تین رکنی بینچ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور دیگر کو نوٹس کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔