دنیا کے مقبول ترین یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے شادی کے اخراجات کے لیے والدہ سے قرض لینے کا انکشاف کر دیا۔

جمی ڈونلڈسن المعروف "مسٹر بیسٹ” نے حال ہی میں اپنی مالی صورتحال سے متعلق ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ امیر ترین ہونے کے باوجود ان کے پاس ذاتی طور پر بہت کم رقم موجود ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ دوبارہ اپنے یوٹیوب کنٹینٹ میں سرمایہ کاری کیلئے لگا دیتے ہیں۔

مسٹر بیسٹ نے کہا کہ ان کی کمپنیوں کی مجموعی مالیت تو اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے، تاہم ذاتی بینک اکاؤنٹ میں رقم کی کمی کی وجہ سے انہیں اپنی شادی کے اخراجات کے لیے والدہ سے رقم ادھار لینا پڑے گا۔ ان کے مطابق وہ صرف کاغذوں پر اربوں کے مالک ہیں۔

 

یاد رہے کہ مسٹر بیسٹ دنیا کے امیر ترین یوٹیوبر ہیں جن کو ان کے  انعامی مقابلوں، سماجی فلاحی منصوبوں اور ریئلٹی شو سیریز "Beast Games” کے باعث دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ مسٹر بیسٹ کی 2024 میں ان کی گرل فرینڈ جنوبی افریقی کانٹینٹ کریئٹر تھییا بوئسن کے ساتھ منگنی ہوئی اور اب دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں جس کا ان کے مداحوں کو بےصبری سے انتظار ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب