دنیا کے امیر ترین شخص کی اپنی عمر سے 47 برس چھوٹی خاتون سے پانچویں شادی
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
اگرچہ دنیا کے امیر ترین شخص کے طور پر اکثر ایلون مسک کا نام لیا جاتا ہے، لیکن گزشتہ ہفتے اوریکل کمپنی کے شریک بانی لیری ایلیسن نے وقتی طور پر مسک کو پیچھے چھوڑ کر یہ اعزاز حاصل کر لیا۔
اوریکل کے شیئرز کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 200 ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہوا اور لیری ایلیسن اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص ٹھہرے۔ تاہم، چند گھنٹوں بعد شیئرز کی قیمت گرنے پر یہ اعزاز دوبارہ ایلون مسک کے پاس چلا گیا۔
بلوم برگ کے ارب پتی انڈیکس کے مطابق اس دوران ایلیسن کی دولت کا تخمینہ 393 ارب ڈالر تھا، جبکہ ایلون مسک کی دولت 385 ارب ڈالر رہی۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ لیری ایلیسن نے 81 سال کی عمر میں 47 سال چھوٹی جولن زو (Zoo Karen) سے شادی کی۔ جولن زو مشی گن یونیورسٹی کی گریجویٹ ہیں اور چینی، انگریزی کے ساتھ ہسپانوی زبان بھی جانتی ہیں۔
ان کی ملاقات 2018 میں ایک یونیورسٹی ایونٹ کے دوران ہوئی، اور نومبر 2024 میں وہ رسمی طور پر 'لیری کی بیوی' کے طور پر متعارف ہو چکی ہیں۔ لیری ایلیسن کی یہ پانچویں شادی ہے، اور پہلے چار شادیاں زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکیں، تاہم ان کے ایک سابقہ اہلیہ سے دو بچے بھی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیری ایلیسن
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔