زینت امان کو اپنا آپ کبھی خوبصورت کیوں نہ لگا؟ 70 کی دہائی کی گلیمر کوئین کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ زینت امان، جنہیں 1970 کی دہائی میں اپنی گلیمرس شخصیت اور مغربی انداز کی وجہ سے ایک ’سیکس سمبل‘ سمجھا جاتا تھا، نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ وہ خود کو کبھی ’خوبصورت‘ نہیں سمجھتی تھیں۔
انسٹاگرام پر اپنی جوانی کی ایک پرانی تصویر شیئر کرتے ہوئے زینت امان نے لکھا
کبھی کبھار جب میں اپنی پرانی تصویر دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں، ’مس امان! تم بری لڑکی نہیں لگ رہی تھیں!‘ لیکن اگر میں یہ بات بلند آواز میں کہہ دوں تو میرے ساتھ موجود 3 millennials میں سے کوئی نہ کوئی فوراً آنکھیں گھما کر تنگ آ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بالی ووڈ اداکارہ زینت امان گزشتہ روز موت کے منہ سے کیسے واپس آئیں؟
زینت امان، جنہیں 1970 میں فیمنہ مس انڈیا میں ’فرسٹ پرنسس‘ کا خطاب ملا اور پھر وہ پہلی بھارتی خاتون بنیں جنہوں نے مس ایشیا پیسفک انٹرنیشنل‘ جیتا، نے اعتراف کیا کہ وہ خود کو کبھی “خوبصورت” نہیں سمجھتی تھیں، البتہ یہ مان لیا تھا کہ ’لوگ ایسا سمجھتے ہیں‘۔
View this post on Instagram
A post shared by Zeenat Aman (@thezeenataman)
انہوں نے اپنی پوسٹ میں ’پریٹی پرولیج‘ (pretty privilege) یعنی ’خوبصورتی کا فائدہ‘ پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق
’دنیا ایک سرد خانہ ہے، اور میں نے جلد ہی سیکھ لیا تھا کہ زندہ رہنے کے لیے اپنے ہر فائدے کو استعمال کرنا ضروری ہے۔‘
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ کیوں اپنی خوبصورتی کو کبھی دل سے نہیں اپنا سکیں۔ ان کے مطابق وہ شاید خوبصورت دکھائی دینے کی اداکاری میں زیادہ الجھ گئیں، بجائے اس کے کہ خود کو خوبصورت محسوس کرتیں۔ عوام کی توجہ صرف ظاہری حسن پر مرکوز رہی، جس نے ان کی اندرونی قدر کو متاثر کیا۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ مغرور نہ بن جائیں، اس لیے اپنے آپ کو خوبصورت ماننا انہیں غرور اور فضول عیاشی لگتا تھا۔
زینت امان نے مزید کہا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں، بہت سے لوگ تعریف کے جواب میں فوراً اپنی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق
’خوبصورتی، چاہے دنیا جتنی بھی تعریف کرے، بے معنی ہے اگر آپ خود کو ویسا نہ سمجھیں۔‘
یہ بھی پڑھیے زینت امان کو دیکھ کر کس سپر اسٹار کا دل ٹوٹا؟
اپنے پیغام کا اختتام اداکارہ نے ایک نصیحت کے ساتھ کیا کہ اگر آپ واقعی خود کو خوبصورت محسوس کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ذہن سے باہر نکلیں اور خود کو اس نظر سے دیکھیں جو آپ سے محبت کرنے والوں کی ہے۔ تبھی آپ اپنی روشنی دیکھ سکیں گے اور سمجھیں گے کہ کوئی کریم، کولیجن یا سرجری اس محبت اور قبولیت کی نظر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
زینت امان کی یہ باتیں مداحوں کے دل کو لگیں۔ کسی نے اسے ’زندگی کا سبق‘ کہا، تو کسی نے اسے ’بے حد خوبصورت سوچ‘ قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ زینت امان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس