پاکستان کی بنیاد جمہوریت‘ ترقی اور استحکام کا یہی راستہ: حافظ عبدالکریم
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے یومِ جمہوریت کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمہوریت محض ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک ایسا اصولی طریقہ ہے جس میں عوامی رائے اور اعتماد کو اولیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان کے قیام کی بنیاد بھی جمہوری جدوجہد پر رکھی گئی تھی اور آج ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا راستہ بھی صرف جمہوری اقدار کو اپنانے اور ان کے استحکام سے ہو کر گزرتا ہے۔ جمہوریت میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قیادت کا انتخاب کریں اور اپنی آواز کو ایوانوں تک پہنچائیں۔ یہی نظام عوامی شمولیت، قانون کی بالادستی، باہمی احترام اور قومی وحدت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ قوم کو سیاسی استحکام، معاشی خوشحالی اور سماجی انصاف میسر آ سکے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان جمہوری استحکام، عوامی حقوق کے تحفظ اور ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے ہمیشہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ تمام سیاسی قوتوں کو ملک و قوم کی بہتری کے لیے باہمی تعاون اور یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔