بھارت: دریائے چناب پر دنیا کے سب سے اونچے ریل پل کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 جون 2025ء) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے جموں ڈویژن میں واقع ریاسی ضلع میں دریائے چناب پر دنیا کے سب سے اونچے اسٹیل آرچ ریل پل 'چناب ریلوے پل' کا افتتاح کیا۔ بھارت نے اسے انجینیئرنگ کا 'شاہکار' قرار دیا ہے۔
بھارت کو کشمیر سے جوڑنے والا اسٹریٹیجک ریلوے پل
یہ ریل پل ادھم پور-سری نگر-بارہ مولہ ریل لنک پروجیکٹ کا کلیدی حصہ ہے۔
اور اس سے وادی کشمیر بھارت کے بقیہ حصے سے ریل کے ذریعہ جڑ گیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے ہندوؤں کے اہم تیرتھ استھان کٹرا میں ماتا ویشنو دیوی مندر اور سری نگر کے درمیان چلنے والی دو 'وندے بھارت' ٹرینوں کو بھی جھنڈی دکھائی۔
(جاری ہے)
'وندے بھارت' کو بھارتی ریلوے کی جدید ترین ٹرینیں سمجھا جاتا ہے۔
چناب ریلوے پل کی کیا خاصیت ہے؟وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ پل انجینیئرنگ کا ایک شاندار کارنامہ ہے۔
انہوں نے کہا،" 6 جون واقعی جموں و کشمیر کے میری بہنوں اور بھائیوں کے لیے ایک خاص دن ہے۔ 46,000 کروڑ روپے کے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا افتتاح کیا جا رہا ہے جس کا لوگوں کی زندگیوں پر بہت مثبت اثر پڑے گا۔"
بھارت کا کشمیر سے لداخ تک سُرنگیں تعمیر کرنے کا فیصلہ
مودی نے افتتاح کے بعد بھارتی قومی پرچم لے کر پل پر کچھ دور چہل قدمی کی۔
گوکہ دنیا میں اور بھی کئی اونچے پل ہیں لیکن گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق اس ریل پل نے اپنے زمرے میں چین کے نیجیہی ریلوے پل کو پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ پل پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی زیادہ اونچا ہے۔ یہ 331 میٹر اونچا ہے اور اس کی لمبائی 725 میٹر ہے۔ اسے 96 ہائی ٹینسائل کیبلز کے ذریعے سپورٹ کیا گیا ہے۔ اس میں انگریزی زبان کے حروف وائی کی الٹی شکل کا کھمبا ہے جو اس کی بنیاد سے 193 میٹر بلند ہے۔
اس پل میں 653 کلومیٹر طویل کیبل اسٹرینڈز شامل ہیں۔ تاہم، جو چیز واقعی اس ڈھانچے کو انجینئرنگ کے معجزے کے طور پر نمایاں کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ صرف 11 ماہ میں مکمل ہوا۔
ایک ہزار تین سو پندرہ میٹر لمبا یہ پل سطح دریا سے 359 میٹر کی بلندی پر ہے۔
کہا جارہا ہے کہ اس پل کے افتتاح کے بعد وادی کشمیر اور بھارت کے باقی حصوں کے درمیان ہمہ موسمی، ہموار ریل رابطہ قائم ہو جائے گا جس سے نقل و حرکت آسان ہو گی اور سماجی و اقتصادی انضمام کو تقویت ملے گی۔
آپریشن سیندور کے بعد مودی کا کشمیر کا پہلا دورہاپریل میں پہلگام حملے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد بھارت کی جوابی فوجی کارروائی، آپریشن سیندور کے بعد وزیر اعظم مودی کا بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کا یہ پہلا دورہ ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، "میں ایک طویل عرصے سے اس لمحے (پل کے افتتاح) کا انتظار کر رہا ہوں۔
یہ ریل پروجیکٹ اس وقت شروع ہوا جب میں 7ویں یا 8ویں کلاس میں تھا۔ اب، میرے بچوں نے بھی اسکول اور کالج مکمل کرنے کے بعد کام کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ لیکن دیر آید درست آید۔"انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پل کے افتتاح کے بعد خطے کی معیشت پر مثبت اثرات پڑیں گے۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارت کے ریلوے پل ریل پل کے بعد
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔