بھارت کاآبی جارحیت پر بھی غرور خاک میں ملائیں گے(شہباز شریف)
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
کوئی فریق یکطرفہ طور پرسندھ طاس معاہدے سے نہیں نکل سکتا،بھارتی دھمکیاں بے معنی ہیں
پانی تقسیم معاہدے کی خلاف ورزی سے متعلق بھارت اپنے بیانیے کو ہوا دے رہا ہے، خطاب
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت کوئی فریق یکطرفہ طور پر معاہدے سے نہیں نکل سکتا، بھارتی دھمکیاں بے معنی ہیں ،روایتی جنگ کی طرح آبی معاملے پر بھی بھارت کا گھمنڈ خاک میں ملائیں گے،پاکستانی قوم متحد ہے، اتفاق رائے سے ا ٓنے والی نسلوں کے تحفظ کے لئے اب یا کھبی نہیں کی بنیاد پردلیرانہ فیصلے اور ٹھوس اقداما ت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو آبی ذخائرکے حوالے سے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا ، صوبائی قیادت واعلی سرکاری حکام بھی موجود تھے ۔وزیراعظم نے کہا کہ بھار ت حالیہ جنگ میں بدترین شکست کے بعدتواتر سے سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کرنیکی دھمکیاں دے رہا ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، پانی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی سے متعلق بھارت اپنے بیانیے کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں اللہ تعالی نے ہمیں جو تاریخی فتح عطا فرمائی اس پر اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے،شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم شبانہ روز محنت کریں اور جنگ کی فتح کی عظمت کی طرح عظیم ملک بن کر دکھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟