شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت کی سرزمین پر علم، خود اعتمادی اور خدمت قوم کا نیا باب اور بلوچستان میں علم خود اعتمادی اور قومی خدمت کا پہلا گرلز کیڈٹ کالج تربت میں روشن مثال ہے۔

رپورٹ کے مطابق شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج متحدہ عرب امارات کے تعاون سے جون 2018 میں تربت میں قائم ہوا، 64 کیڈٹس پر مشتمل دوسرا بیچ کامیابی سے فارغ التحصیل ہو چکا ہے۔

یہ ادارہ صرف تعلیمی عمارت نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی پذیر سوچ کی عکاسی ہے، کیڈٹ آمنہ  نے کہا کہ اس ادارے نے میرے اندر وہ صلاحیتیں جگا دیں جن کا مجھے تصور بھی نہ تھا، میں اس کالج کی پریڈ کمانڈر ہوں اور ساتھیوں کے لیے ایک مثالی کردار ادا کر رہی ہوں۔

کیڈیٹ آمنہ  نے کہا کہ ہمیں صرف نصاب ہی نہیں بلکہ قیادت خود اعتمادی اور بڑے خواب سیکھنے کو ملتے ہیں، تربت جہاں کبھی تعلیم ایک خواب تھی آج قومی تعمیر کی عملی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔

یہاں کی طالبات نے نظم و ضبط قیادت قومی جذبے اور سماجی خدمت جیسے اصول اپنا لیے ہیں، بلوچستان کی باہمت بیٹیاں کہتی ہیں ہم قومی قیادت میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔

یہ ادارہ ہر طالبہ کے لیے روشن مستقبل نیا اعتماد اور فخر کا استعارہ بن چکا ہے، شیخہ فاطمہ کالج سے فارغ التحصیل بیٹیاں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کریں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خود اعتمادی اور گرلز کیڈٹ کالج شیخہ فاطمہ

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد