لاہور:

بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیے جانے کے اطلاعات کے باوجود پاکستان میں واہگہ بارڈر پر سکھ یاتریوں کا علامتی استقبال کیا جائے گا۔

متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے ارکان بھارتی یاتریوں کا انتظار کریں گے اور استقبال کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ریڈ کارپٹ بچھایا جائے گا۔

ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز سیف اللہ کھوکھر نے کہا کہ سکھ یاتریوں کی عدم موجودگی کے باوجود استقبال علامتی طور پر ہوگا تاکہ دنیا کو پاکستان کا اقلیت نواز، دوست اور بین المذاہب ہم آہنگی پر مبنی چہرہ دکھایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورو ارجن دیو جی کی قربانی امن، برداشت اور مذہبی آزادی کی علامت ہے، اور ان کی تعلیمات آج بھی بین المذاہب رواداری کا پیغام دیتی ہیں۔

پاکستان سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے مطابق ہر سال معاہدے کے تحت بھارتی یاتری 9 جون کو گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن کی رسومات کے لیے پاکستان آتے ہیں، تاہم اس بار بھارتی حکومت نے یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی۔

بھارتی حکومت کے سکھ یاتریوں کے خلاف اقدامات کے باوجود پاکستان کی طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور واہگہ بارڈر پر استقبال کیا جائے گا۔

چیئرمین بورڈ ڈاکٹر ساجد محمود کی ہدایت پر تمام شعبہ جات کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

سیف اللہ کھوکھر کے مطابق اگر یاتری پاکستان آتے تو انہیں ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی جاتیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان سکھ یاتریوں پاکستان ا کے باوجود

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی