Islam Times:
2026-06-03@04:36:46 GMT

قلم اُٹھایئے اور شعور پھیلایئے

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

قلم اُٹھایئے اور شعور پھیلایئے

اسلام ٹائمز: قلم فقط ماضی کا نوحہ لکھنے کیلئے نہیں، بلکہ مستقبل کے خواب سنوارنے کیلئے ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے جھوٹے پروپیگنڈے سے محفوظ رہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم علم و فہم کے آسمان پر پرواز کرے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ سچائی کا چراغ پھر سے روشن ہو تو ہمیں آج ہی قلم اٹھانا ہوگا، البتہ عزم، اخلاص اور شعور کے ساتھ۔ ضروری ہے کہ ہمارے دانشمندان قلم کی طاقت کے ذریعے وقت کے سب سے بڑے فتنے یعنی ان خائن اور مفاد پرست سیاست دانوں کو بے نقاب کریں، جنہوں نے اپنی ذاتی خواہشات، مفادات اور اقتدار کی ہوس کے بدلے وطن عزيز پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر دیں ہیں۔ تحریر: محمد حسن جمالی

علم بادشاہ ہے، جس قوم کے پاس علم ہو، وہی دوسروں پر حکمرانی کرسکتی ہے۔رہبر معظم کے مطابق علم تمدن کی بنیاد ہے۔ تحقیق، سیاسی، عسکری، تہذیب و ثقافت اور اقتصادی میدان میں قوموں کو استقلال اور اقتدار فراہم کرتی ہے۔ علم کے حصول کا اہم ذریعہ قلم ہے۔ قلم انسان کی وہ طاقت ہے، جس سے افکار تشکیل پاتے ہیں، تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں۔ انقلابات جنم لیتے ہیں اور تاریخ کے دھارے بدل جاتے ہیں۔ یہ صرف روشنائی سے بھرا چند گرام وزنی آلہ نہیں بلکہ انسان کے ضمیر، احساس، تجربے اور مشاہدے کا نچوڑ صفحۂ قرطاس پر نمودار کرنے کا اہم وسیلہ ہے۔ جو قومیں اپنے قلم کو سچائی، عدل اور شعور کی خدمت میں لگاتی ہیں، وہ کبھی فکری غلامی کا شکار نہیں ہوتیں، جبکہ وہ قومیں جو قلم کو نظرانداز کر دیتی ہیں یا اسے صرف مفاد، جھوٹ اور سنسنی پھیلانے کا ذریعہ بنا دیتی ہیں، وہ اپنی نسلوں کو تاریکی کے سپرد کر دیتی ہیں۔

آج کے اس پیچیدہ اور متلاطم دور میں ایک طرف سچ دبایا جا رہا ہے اور جھوٹ کو خوبصورت بیانیہ دے کر پھیلایا جا رہا ہے۔ ایسے میں خاموش رہ جانا سب سے بڑی خیانت ہے۔ خاموشی، ظلم کی تائید ہے، لاعلمی کے تسلسل کو جاری رکھنے کی اجازت ہے اور جھوٹے نظریات کو رواج دینے کا راستہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ اگر ہم نے سوچنے، سمجھنے اور لکھنے کا عمل ترک کر دیا تو ہم صرف ایک بے حس ہجوم بن کر رہ جائیں گے، جسے کسی بھی سمت ہانکا جا سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر وہ فرد جس کے اندر احساس کی رمق باقی ہے اور جو معاشرے کی بدحالی پر تڑپتا ہے، وہ خاموش تماشائی بنا رہنے کے بجائے قلم اٹھائے اور شعور کی شمع روشن کرے۔ قلم کا اصل مقصد صرف آنکھیں بند کرکے کاغذ کے صفحات بھرنا نہیں، بلکہ انسانوں کے اندر وہ سوال پیدا کرنا ہے، جو انہیں سچ تک لے جائے۔

جب ہم کسی مظلوم کی داستان لکھتے ہیں، کسی ناانصافی کی نشاندہی کرتے ہیں اور کسی گمراہی کو بے نقاب کرتے ہیں تو ہم درحقیقت سچائی کی جانب ایک راستہ کھولتے ہیں اور یہی وہ پہلی اینٹ ہے، جو معاشرے کی اصلاح کے لیے درکار ہوتی ہے۔ یاد رکھیں! اگر آپ کا ایک جملہ کسی نوجوان کے دل میں بیداری پیدا کر دے، اگر آپ کا ایک مضمون کسی فرد کو سوچنے پر مجبور کر دے تو یہ فقط تحریر نہیں بلکہ تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ آج ہمیں سوشل میڈیا کی سطحی تحریروں، جھوٹے تجزیوں اور فکری بدنظمی کے طوفان کا سامنا ہے۔ یہاں ہر کوئی لکھ رہا ہے، مگر کم ہی لوگ ایسے ہیں، جو ذمہ داری سے لکھتے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے، جو مسائل پر سوچیں، انہیں پرکھیں، ان پر تحقیق کریں اور پھر لکھیں۔ ایسا لکھیں، جو وقتی واہ واہ کے لیے نہیں، بلکہ قوم کی دیرپا بیداری کے لیے ہو۔

ہمیں ایسے قلم کار درکار ہیں، جو قوم کے ذہنوں سے تعصب، جہالت اور غفلت کی گرد جھاڑ سکیں، جو سچ کے راستے پر سوالات کے چراغ روشن کریں، جو ظالم کو ظالم لکھنے کی جرأت رکھیں اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کرسکیں۔ قلم کا مطلب ہے ذمہ داری اور شعور۔ ایک باشعور قلم کار وہ ہوتا ہے، جو اپنے ہر لفظ کو تولتا ہے، جو صرف لکھنے کے لیے نہیں لکھتا، بلکہ انسانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے لکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک جملہ کسی کے دل کا رُخ بدل سکتا ہے، کسی کی سوچ کی بنیاد ہلا سکتا ہے اور کسی کو عمل پر آمادہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی اس کارواں کا حصہ بنیں، ہم بھی لکھیں، ہم بھی سوچیں اور ہم بھی شعور بانٹیں۔ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ سوچنے اور لکھنے کے عمل کو زندہ رکھنا خود انسانیت کی بقا ہے۔ اگر آج ہم نے شعور کی شمع اپنے قلم سے نہ جلائی تو کل اندھیروں کا گلہ کرنا بے معنی ہوگا۔ ہمیں اپنے قلم کو تلوار سے زیادہ مؤثر ہتھیار بنانا ہوگا۔ ایک ایسا ہتھیار جو خون نہیں سوچ نکالے؛ جو چیخ نہیں دلیل دے؛ جو نفرت نہیں فہم بانٹے۔

قلم فقط ماضی کا نوحہ لکھنے کے لیے نہیں، بلکہ مستقبل کے خواب سنوارنے کے لیے ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے جھوٹے پروپیگنڈے سے محفوظ رہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم علم و فہم کے آسمان پر پرواز کرے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ سچائی کا چراغ پھر سے روشن ہو تو ہمیں آج ہی قلم اٹھانا ہوگا، البتہ عزم، اخلاص اور شعور کے ساتھ۔ ضروری ہے کہ ہمارے دانشمندان قلم کی طاقت کے ذریعے وقت کے سب سے بڑے فتنے یعنی ان خائن اور مفاد پرست سیاست دانوں کو بے نقاب کریں، جنہوں نے اپنی ذاتی خواہشات، مفادات اور اقتدار کی ہوس کے بدلے وطن عزيز پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر دیں ہیں۔ وہ سیاست دان جنہیں قوم نے امانت دار سمجھ کر ووٹ دیا، جنہیں رہنماء جان کر سروں پر بٹھایا، جن کے وعدوں پر بھروسہ کیا، جن کی باتوں میں امید کے دیئے تلاش کیے گئے، مگر بدلے میں انہوں نے عوام کے اعتماد کو بیچ کر اپنے محل تعمیر کیے، غریب کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنے بچوں کے بینک بیلنس بڑھائے اور پاکستان کی قسمت کو اپنی سیاست کی شطرنج پر قربان کر دیا۔

یہ وہی سیاست دان ہیں، جو ہر الیکشن میں نئے نعرے، نئی جھوٹی قسمیں اور نئے خواب لے کر عوام کے سامنے آتے ہیں اور جب اقتدار میں آجاتے ہیں تو ان کا ہر عمل اس ملک کی روح پر زخم بن کر لگتا ہے۔ ان کی زبان پر اسلام، جمہوریت، خدمت، اصول اور انصاف جیسے الفاظ ہوتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو وہ صرف لوٹ مار، اقربا پروری، کرپشن، جھوٹ، بددیانتی، نااہلی اور بیرونی آقاؤں کی تابعداری کے سوا کچھ نہیں دکھاتے۔ وہ قومی اداروں کو کمزور کرتے ہیں، عدلیہ کو دباؤ میں رکھتے ہیں، میڈیا کو خریدتے ہیں اور ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ان کی اصلیت بے نقاب کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ان چہروں کو بار بار موقع دیا گیا، کیونکہ انہوں نے جھوٹ کو اس مہارت سے سچ کا لبادہ پہنایا کہ سادہ دل عوام پھر ان کے دام فریب میں آگئے۔

اگر آج ان کے جھوٹ کو قلم کی روشنی سے چیر کر بے نقاب نہ کیا گیا، اگر ان کی سازشوں، منافقتوں اور بدنیتیوں کو الفاظ کی تلوار سے کاٹا نہ گیا تو آنے والی نسلیں بھی انہی خالی نعروں اور جعلی تاریخوں کو رہنمائی سمجھتی رہیں گی۔ ان کے بچوں کی قسمت بھی انہی جعلی رہنماؤں کے ہاتھوں لکھی جائے گی اور قوم ایک بار پھر اسی اندھیرے میں بھٹکتی رہے گی، جس سے نکلنے کے لیے آج کا شعور پکار رہا ہے۔ یہ سیاست دان صرف مالی کرپشن تک محدود نہیں۔ ان کی سب سے بڑی خیانت فکری کرپشن ہے۔ انہوں نے قوم کو تقسیم کیا، فرقہ واریت کو ہوا دی، علاقائیت کو بڑھایا، قومیت کے نام پر نفرتیں بوئیں اور تعلیمی نظام کو ایسا بگاڑا کہ سوچنے والے ذہن پیدا ہی نہ ہوں۔ انہوں نے نوجوانوں کے ذہنوں میں الجھن، مایوسی اور غصہ بھرا، تاکہ کوئی شعور کی بات نہ کرسکے، کوئی سوال نہ اٹھا سکے اور کوئی ان کے مفادات کو چیلنج نہ کرسکے۔

وہ چاہتے ہیں کہ عوام صرف جذباتی رہے، تاکہ وہ جھوٹ بول کر ووٹ لے سکیں اور پھر اقتدار میں آکر ملک کو اپنے خاندانی کاروبار کی طرح چلا سکیں۔ لہٰذا یہ اب صرف ایک اخلاقی فرض نہیں رہا بلکہ ایک قومی فریضہ بن چکا ہے کہ اہلِ قلم ان فتنہ گر سیاست دانوں کی چمکتی ہوئی مگر اندر سے سڑتی ہوئی حقیقت کو بے نقاب کریں۔ ان کے وہ چہرے دکھائیں، جو میڈیا پر خوشنما پردوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے وہ بیانیے توڑیں، جو قوم کے شعور کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، کیونکہ اگر ہم نے یہ کام نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ قلم صرف حسن کی تعریف کے لیے نہیں، بدصورتی کو بے نقاب کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے اور اس وقت سب سے بدصورت شے، سب سے مکروہ سازش اور سب سے خطرناک دھوکہ یہی مکار سیاست دان ہیں، جو جمہوریت کے پردے میں آمریت کے زہر سے قوم کو برباد کر رہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ کسی قوم میں برپا ہونے والا حقیقی انقلاب صرف احتجاج یا اقتدار کی تبدیلی سے نہیں آتا، بلکہ اس کے پیچھے قلم کی طاقت کارفرما ہوتی ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران اسی ابدی حقیقت کا ایک درخشاں اور زندہ ثبوت ہے۔ یہ فقط ایک سیاسی تحریک یا اقتدار کی منتقلی نہیں تھی، بلکہ ایک فکری بیداری، تہذیبی احیاء اور نظریاتی تجدید کا نام تھا۔ اس انقلاب کے پس پردہ جو اصل طاقت کارفرما تھی، وہ عوامی جذبات یا وقتی جوش و خروش نہیں، بلکہ وہ تحریریں اور افکار تھے، جو ذہنوں کو جھنجھوڑتے، دلوں کو جگاتے اور ضمیر کو بیدار کرتے تھے۔ ان تحریروں میں سب سے روشن اور مؤثر نام ہے شہید مرتضیٰ مطہری کا۔ شہید مطہری صرف ایک مذہبی عالم نہیں تھے بلکہ وہ فکر کے معمار، عقل و شعور کے مبلغ اور جدید اسلامی فکر کے عظیم معلم تھے۔ ان کے قلم نے نہ صرف مغرب کے فکری حملوں کا مدلل جواب دیا ہے، بلکہ مشرق کی خوابیدہ امت کے لیے بیداری بھی فراہم کی ہے۔

انہوں نے نوجوان نسل کو یہ سمجھایا کہ دین صرف رسوم و رواج یا ماضی کے قصے سنانے کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو انسان کو مقصد، بصیرت اور مزاحمت کی جرأت عطا کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انقلاب سے پہلے فکری زمین تیار کرنا لازم ہے اور یہ زمین قلم کے ذریعے ہی زرخیز ہوتی ہے۔ جب انسان سوچتا ہے، سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور سچ کی تلاش میں نکلتا ہے، تبھی تبدیلی کے لیے تیار ہوتا ہے۔ شہید مطہری نے اسلامی تعلیمات کو صرف مساجد اور مدرسوں کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا، بلکہ فلسفہ، معاشرت، تاریخ اور انسانی افکار کے وسیع میدانوں میں اسلام کی روشنی پھیلائی۔ ان کا ہر جملہ ایک فکری مشعل اور ہر کتاب ایک نظریاتی قلعہ تھی۔ اسلامی انقلاب پوری امت مسلمہ کے لیے ایک نمونہ ہے۔ یہ اس زندہ حقیقت کا اعلان ہے کہ اگر قلم بیدار ہو جائے تو غلامی کی زنجیریں ٹوٹ سکتی ہیں، اگر فکر آزاد ہو جائے تو ایوانِ ظلم لرز سکتے ہیں اور اگر فکری انقلاب برپا ہو جائے تو تاریخ کے رخ موڑے جا سکتے ہیں۔

آج جب ہم اپنی ملت کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تبدیلی کے نعرے تو موجود ہیں، مگر ان کے پیچھے وہ گہرائی، وہ فکری بنیاد اور وہ اخلاقی جرأت ناپید ہے، جو قلم کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتی۔ ہمیں شہید مطہری جیسے اہلِ قلم کی ضرورت ہے، جو صرف لکھنے کے لیے نہ لکھیں، بلکہ زندگیاں بدلنے کے لیے لکھیں؛ جو نوجوان نسل میں وہ سوالات پیدا کریں، جو انہیں اندھی تقلید سے نکال کر تحقیق، تفکر اور تعمیری مزاحمت کی طرف لے جائیں۔ ہمیں ایسے قلم کار درکار ہیں، جو جھوٹ کا نقاب چاک کریں، جو سچ کو دلیل کے ساتھ پیش کریں، جو صرف تنقید نہیں بلکہ تعمیر کی بات کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے قلم کو وہ طاقتور ہتھیار بنائیں، جو بے ضمیری کی دیواروں کو توڑ دے اور شعور کی روشنی کو ہر دل تک پہنچا دے۔ آیئے قلم اٹھایئے اور شعور پھیلایئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لیے نہیں کو بے نقاب اقتدار کی سیاست دان کے لیے نہ کرتے ہیں اپنے قلم اور شعور لکھنے کے انہوں نے کہ ہمارے ہے کہ ہم ہوتا ہے شعور کی ہیں اور قلم کی ہم بھی کا ایک ہے اور قلم کا قلم کو رہا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی