برطانویوں نے Labubu کے لیے ہاتھا پائی کی جبکہ چینی IPs دنیا پر چھا رہے ہیں WhatsAppFacebookTwitter 0 10 June, 2025 سب نیوز

بیجنگ :حالیہ دنوں میں، چینی فیشن اور تفریحی کمپنی Pop Mart کے “Labubu” نامی سلسلہ وار گڑیا کھلونے دنیا بھر میں مقبول ہو چکے ہیں۔ Labubu کی نئی سیریز امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں “منٹوں میں” فروخت ہو جاتی ہے۔ حال ہی میں، لندن کے ویسٹ فیلڈ شاپنگ سینٹر میں Labubu خریدنے کے لیے پرستاروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد سیکورٹی خطرات بڑھنے کی وجہ سے Pop Mart نے برطانیہ میں Labubu کی فروخت معطل کر دی ہے ۔ اس جھگڑے کی ویڈیوز دنیا بھر کے بڑے پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوئی ہیں، جس پر کچھ ریٹیل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے خریداری کا ایک نیا جنون پھیل سکتا ہے۔Labubu سے لے کر چینی فلم “نی زھا 2” ،جس نے عالمی باکس آفس چارٹس پر دھوم مچائی ، اور DEEPSEEK جیسی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک، یہ تمام واقعات ایک واضح رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں:

“میڈ ان چائنا” اب “سستے” اور ” کم معیاری” کے لیبل سے نکل کر “چائنا کری ایٹ” کی نئی پہچان کے ساتھ عالمی منظر نامے پر اپنا لوہا منوا رہا ہے۔کبھی “میڈ ان چائنا” کا مطلب “سستا” اور “غیر ملکی برانڈز کے لیے مینوفیکچرنگ” ہوا کرتا تھا، جہاں چینی فیکٹریاں عالمی برانڈز کے لیے مصنوعات بناتی تھیں لیکن قیمتوں یا اثر و رسوخ پر کنٹرول نہیں رکھتی تھیں۔ لیکن اب یہ تصویر بدل رہی ہے۔ “میڈ ان چائنا” اور “چائنا کری ایٹ” تیزی سے نئے معیار اور جدت کی علامت بن گئے ہیں۔ Labubu، “نی زھا 2″، اور DEEPSEEK کی کہانیاں چینی مصنوعات کی اس کامیابی کے پیچھے چھپے اصول کو ظاہر کرتی ہیں: “فیکٹر ڈرائیون” سے “انوویشن ڈرائیون” کی طرف، اور “قیمت کی جنگ” سے “ویلیو کی جنگ” کی طرف۔ جب چینی کمپنیاں اوریجنل ڈیزائن، کلیدی ٹیکنالوجی، اور برانڈ مینجمنٹ جیسی صلاحیتوں پر عبور حاصل کر لیتی ہیں، تو وہ عالمی ویلیو چین میں ایک بہتر مقام حاصل کر لیتی ہیں۔ اس تبدیلی کے پیچھے چین کا وسیع کسٹمر بیس ہے، جو جدت کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتا ہے، “نیو نیشنل ٹرینڈ” (نئی قومی لہر) میں نوجوانوں کا مقامی برانڈز پر اعتماد ہے، اور چین کی مسلسل اصلاحات اور عالمگیریت کو اپنانے کی پالیسی بھی شامل ہے۔

البتہ، یہ کامیابی آسان نہیں تھی۔ مثال کے طور پر، Labubu کی مقبولیت کے ساتھ ہی جعلی مصنوعات کی بھرمار ہو گئی، جو نہ صرف برانڈ کی شبیہہ کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ تخلیقی ماحول کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ یہ “چائنا کری ایٹ” کے سامنے موجود ایک بڑا مسئلہ ظاہر کرتا ہے: تیزی سے پھیلتی ہوئی، انٹلیکچوئل پراپرٹی کیسے محفوظ رکھی جائے؟ چینی کمپنیوں کو سپلائی چین کنٹرول اور جائز مصنوعات کی تصدیق کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا، جبکہ قانونی سطح پر بھی نقائص کو دور اور اپنے حقوق کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایک اور بڑا چیلنج یہ ہے کہ “عالمگیریت” اور “مقامیت” کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ جب چینی برانڈز عالمی منڈی میں “لیبلز سے آزاد ہونے” اور “یونیورسل ایتھلیٹکس” کے ذریعے اپنا اثر بڑھاتے ہیں، تو وہ اپنی ثقافتی جڑوں کو کیسے محفوظ رکھیں؟ “نی زھا 2” کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ قومی ثقافت عالمگیریت میں ایک منفرد فائدہ ہو سکتی ہے، لیکن اسے جدید نقطہ نظر سے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح، Labubu کا “ڈارک کیوٹ” اسٹائل ظاہر میں “غیر چینی” لگتا ہے، لیکن اس میں مشرقی جمالیات کی “پوشیدہ دلکشی” موجود ہے۔ یہ پوشیدہ ثقافتی اظہار شاید ہی وہ کلید ہے جو ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کر لیتی ہے۔عالمگیریت مخالف رجحانات کے موجودہ دور میں، Labubu کی امریکی منڈی میں “مخالف رجحان میں کامیابی” ایک علامت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے: حقیقی مسابقتی مصنوعات ٹیرف کی دیواروں سے متاثر نہیں ہوتیں۔ جب “چائنا کری ایٹ” معیار اور جدت کی علامت بن جاتا ہے، اور جب چینی برانڈز عالمی صارفین کے لیے منفرد ویلیو تخلیق کرتے ہیں، تو کوئی بھی تجارتی تحفظ پسندانہ اقدامات ان کے عروج کو روک نہیں سکتے۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے جو دنیا کے “میڈ ان چائنا” کے تصور کو تبدیل کر رہا ہے: اب یہ کم معیار کی فیکٹریاں نہیں ہیں، بلکہ نئے رجحانات کی قیادت کرنے والے جدت کار ہیں؛ نہ کہ صرف شریک، بلکہ قواعد کے مشترکہ معمار ہیں۔نئے تاریخی موڑ پر کھڑے ہو کر،

“چائنا کری ایٹ” کا یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ فیشن سے لے کر ٹیکنالوجی تک، ثقافت سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، چینی برانڈز اپنی صلاحیتوں سے عالمی کاروباری نقشہ بدل رہے ہیں۔ اس راستے پر مواقع کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی ہیں، تعریف کے ساتھ سوالات بھی ہیں، لیکن ایک چیز جو بدلی نہیں وہ “چائنا کری ایٹ” کے تخلیق کاروں کا جدت،اور معیار اور کھلے پن سے وابستگی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو چینی برانڈز کو مرکزی دھارے میں لانے اور مستقبل کی کامیابی کی ضمانت دے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو چین کی جانب سے تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ہے، چینی وزیر خارجہ گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو چین کی جانب سے تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ہے، چینی وزیر خارجہ نیلا سیارہ سمندر کے ذریعے مختلف جزیروں میں تقسیم نہیں ہے، چینی نائب صدر پاکستان بزنس فورم کا اگلے مالی سال میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ چین کے غیرملکی تجارتی حجم میں  سال بہ سال 2.

5 فیصد کا اضافہ  چین اور برطانیہ کو اقتصادی ڈائیلاگ کے نتائج کو مزید گہرا کرنےکی کوشش کرنی چاہیئے، چینی نائب وزیر اعظم قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا، حکومت معاشی ترقی کا ہدف حاصل میں ناکام TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟