آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی پیسہ نہیں لگایا جاتا، مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
سابق وفاقی وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نےکہا ہے کہ آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی پیسہ نہیں لگایا جاتا۔
اپنے ایک بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم اپنے خطے میں پیچھے ہوگئے ہیں، پاکستانیوں کی قوت خرید کم ہوگئی ہے، ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں جس سے ملک کی گروتھ ہو۔
مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، پاکستان میں ترقی کا ماحول نہیں، ورلڈ بینک کے مطابق 45 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔
اگلے مالی سال کے لیے تقریباً 17 ہزار 600 ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے کوئی بنیادی اصلاحات نہیں کیں، بجٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوگی، معیشت میں اصلاحات کی ضرورت ہے جو ہم نہیں کر پائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں استحکام ہے، کوئی ڈیفالٹ کی بات نہیں کر رہا، ملک میں میکرو اکنامک استحکام آگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔