سابق اسرائیلی وزیرِاعظم کی نیتن یاہو پر شدید تنقید، ٹرمپ سے سمجھانے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی جارحیت کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور عالمی سطح پر اسرائیل کو درپیش تنہائی کے پیش نظر صہیونی ریاست کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایہود اولمرٹ نے عالمی برادری کو درپیش سنگین مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل پر زور دیا اور غزہ میں جنگ کو جاری رکھنے کو ایک ’جرم‘ قرار دیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو کی حکومت اندرونی و بیرونی سطح پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایہود اولمرٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست اپیل کی کہ وہ نیتن یاہو کو اپنے آفس بلائیں اور میڈیا کے سامنے انہیں واضح الفاظ میں کہیں کہ اب بہت ہو چکا ہے، ختم کرو یہ سب۔
یہ مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی جنگ کے جاری رہنے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔اولمرٹ کا یہ بیان جو ایک سابق سربراہ حکومت کی حیثیت سے سامنے آیا ہے، نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک وزیرِاعظم کی حیثیت سے نیتن یاہو کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا تھی، جس میں وہ ناکام رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے کے بعد عالمی برادری نے ابتدا میں اسرائیل کے حقِ دفاع کو تسلیم کیا اور اس کی حمایت کی، لیکن صورتحال اس وقت پلٹ گئی جب نیتن یاہو نے جنگ بندی ختم کر کے فوجی کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، جس سے عالمی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف ہو گئی اور اب دنیا کے بیشتر ممالک اسرائیل کے اس اقدام پر تنقید کر رہے ہیں۔
اولمرٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی، جس کا خمیازہ اسرائیل کو دنیا میں تنہا ہو کر بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک سنگین الزام ہے جو نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کرتا ہے۔ نیتن یاہو پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے دباؤ میں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر جنگ روک دی گئی تو ان کے اتحادی حکومت سے نکل جائیں گے، جس کے نتیجے میں دوبارہ الیکشن کرانا پڑیں گے۔
سابق وزیراعظم نے پیش گوئی کی کہ ایسے کسی بھی الیکشن میں نیتن یاہو کی شکست واضح ہو گی۔ یہ سیاسی تجزیہ اسرائیل کی موجودہ حکومت کے اندرونی ڈھانچے اور نیتن یاہو کی قیادت کو درپیش چیلنجز کو واضح کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو کی اسرائیل کے
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ