قطر اور دیگر ممالک کی پالیسیوں نے اسرائیل کو عالمی طور پر تنہا کردیا، نیتن یاہو
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد قطر اور دیگر ممالک کی پالیسیوں نے اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کی صورتحال کو قدیم یونانی ریاست اسپارٹا سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ملک کو ایک "سُپر اسپارٹا" کی طرح سخت حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ قطر کئی ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کا اقتصادی محاصرہ کر رہا ہے اور چین بھی اس عمل میں شریک ہے۔ ان کے مطابق یہ ممالک اسرائیل کو میڈیا ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی معیشت اور بالخصوص اسلحہ سازی کی صنعت کو آزاد اور خود مختار بنانا ہوگا تاکہ آئندہ برسوں میں کسی بھی قسم کی ناکہ بندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح ایران کی ناکہ بندی ناکام بنائی گئی تھی، اسی طرح قطر اور اس کے اتحادیوں کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ میں انتہا پسند مسلم اقلیتیں اسرائیل مخالف پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں، تاہم امریکا اور کئی دوسرے ممالک اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نیتن یاہو نے زور دیا کہ اسرائیل کو روایتی اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو نے اسرائیل کو کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم