اسرائیل کا یمن میں حوثی اہداف پر حملہ، مزید کارروائیوں کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسرائیلی بحریہ نے یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر حوثی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے دھمکی دی ہے کہ اگر حوثی باغی اسرائیل پر مزید حملے جاری رکھتے ہیں تو ان کے خلاف بحری اور فضائی ناکہ بندی کی جائے گی۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے حدیدہ بندرگاہ کے ڈاکس پر 2 حملے کیے۔ اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی بحریہ نے حوثی اہداف کو نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا ہے کہ یہ بندرگاہ حوثیوں کی طرف سے اسلحہ کی منتقلی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ انتظامیہ نے یمن میں حوثی باغیوں پر فوجی حملوں کی خبر کیوں لیک کی؟
اسرائیل کی فوج نے اس سے قبل پیر کو حوثی کے زیر کنٹرول بندرگاہوں رش عیسیٰ، حدیدہ اور صلیف کو خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے حوثی دہشت گرد تنظیم کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی طرف حملے جاری رکھتے ہیں تو انہیں ایک طاقتور ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا اور انہیں بحری و فضائی ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کا خطرہ، امریکا کا یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانے پر حملہ
یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی اسرائیل اور سرخ سمندر میں جہازوں پر حملے کر رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف اسرائیل نے متعدد حوثی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق وہ اسرائیل پر یہ حملے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حملے حوثی باغی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل حملے حوثی اہداف
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔