کراچی میں 13 کروڑ کی ڈکیتی میں ملوث ٹک ٹاکر بہن بھائی پھر پولیس کے ہتھے چڑھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں 13 کروڑ روپے ڈکیتی کیس میں دلچسپ موڑ آگیا، ٹک ٹاکرز ملزمان پھر پولیس کے ہتھے چڑھے اور پولیس ایک بار پھر ملزمان کا جسمانی ریمانڈ لینے میں کامیاب ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ملزمان نمرہ شاہ، شہریار، يسرا اور شہروز کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے جولائی کے پہلے ہفتے چاروں ملزمان کو جیل بھیج دیا تھا۔ پولیس نے مجسٹریٹ کا فیصلہ سیشن کورٹ میں چیلنج کیا۔
سیشن کورٹ نے بھی پولیس کی استدعا مسترد کردی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے پھر سندھ ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس پر سندھ ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ سیشن کورٹ بھیج دیا۔
سیشن کورٹ نے پولیس کی نظر ثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مجسٹریٹ کے پاس بھیج دیا تھا۔ اب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان سے ابھی رقم کی ریکوری کرنا باقی ہے، ملزمان سے مزید تفتیش کرنا مقصود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔