فیری میڈوز: متعدد خواتین و بزرگ بذریعہ ہیلی کاپٹر محفوظ مقام پر منتقل، کئی اب بھی پھنسے ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
فیری میڈوز میں بدستور کئی سیاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ متعدد خواتین اور بزرگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
فیری میڈوز کا ٹریک کل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گیا تھا جو نوجوان ٹریکنگ کر سکتے تھے ان کو پیدل وہاں سے نیچے اُتارا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں واقع فیری میڈو روڈ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مقامات سے بند ہے۔
گزشتہ روز آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیاحوں کو ریسکیو کیا گیا تھا تاہم موسم کی خرابی کے باعث ہیلی سروس روک دی گئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سیاحوں کو بذریعہ روڈ بھی ریسکیو کیا جا رہا ہے، ابھی بھی کافی تعداد میں سیاح وہاں موجود ہیں۔
فیری میڈوز روڈ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند، سیاح ریسکیو کیے جانے کے منتظرموسم خرابی کے باعث سیاحوں کو ریسکیو کرنے والی ہیلی سروس روک دی گئی جبکہ سیاحوں کو بذریعہ سڑک بھی ریسکیو کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے پہنچ گئی ہے۔
لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے پاک فوج سمیت دیگر ادارے آپریشن میں حصہ شریک ہیں۔
لودھراں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سعد اسلام نے ’جیو نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سانحۂ سوات سے سبق سیکھنا چاہیے تھا، شاید ان دنوں سیر و تفریح کے لیے اسکردو نہیں جانا چاہیے تھا، دعا کروں گا کہ اللّٰہ ایسا سانحہ کبھی کسی کو نہ دکھائے۔
ادھر ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللّٰہ فراق کا کہنا ہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی دیامر میں ہوئی ہے، دیامر کی مختلف وادیاں، تھک، بابوسر، تھور، کھنر، بٹو گاہ، تانگیر، کھنبری و دیگر علاقے سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شاہراہِ بابوسر پر 9 چھوٹے چھوٹے گاؤں تباہ ہوئے ہیں، شاہراہِ بابوسر تھک میں متعدد علاقے سیلابی ریلوں سے تباہ ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیری میڈوز سیاحوں کو کے باعث
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔