فاروق اعوان اور رومہ مشتاق مٹو کے ہاتھوں سروائیکل کینسرسے بچاؤ کی ویکسینیشن کمپین کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
کراچی:
وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی ہدایات پر سروائیکل کینسر (HPV) سے بچاؤ کی 12 روزہ ویکسینیشن کمپین کا باقاعدہ آغاز کراچی کے ضلع کورنگی میں کر دیا گیا، ناصرہ اسکول میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں اس مہم کا افتتاح ایم پی اے فاروق اعوان اور ایم پی اے رومہ مشتاق مٹو (پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور) نے کیا۔
اس موقع پر ایم پی اے فاروق اعوان نے کہا کہ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی قیادت میں سندھ حکومت خواتین اور بچیوں کی صحت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم معاشرے میں شعور اجاگر کرنے اور بچیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔
رومہ مشتاق مٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سروائیکل کینسر ایک سنگین مرض ہے جس سے ہر سال ہزاروں خواتین متاثر ہوتی ہیں اور اس کا واحد مؤثر حل بروقت ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی 9 سے 14 سال کی بچیوں کو لازمی ویکسین لگوائیں تاکہ انہیں ایک محفوظ مستقبل دیا جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے عزم کیا کہ وہ اس مہم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کریں گے اور آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ معاشرے کی خواتین اور بچیاں ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔