سول سوسائٹی کے کارکنوں نے جموں کے علاقے سورے چک میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں 21 سالہ نوجوان محمد پرویز کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے جموں کے علاقے سورے چک میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں 21 سالہ نوجوان محمد پرویز کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے پرویز احمد کو گزشتہ روز محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیا تھا۔ پولیس نے نوجوان کے وحشیانہ قتل پر پردہ ڈالنے کیلئے دعوی ٰ کیا کہ وہ فورسز اور مشتبہ افراد کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آنے کے باعث مارا گیا۔ تاہم نوجوان کے لواحقین اور سول سوسائٹی کارکنوں نے پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز کو دانستہ طور پر گولی ماری گئی ہے۔

مقبوضہ علاقے کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نوجوان کے قتل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ایکس پر لکھا ”پولیس کو بے لگام ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے“۔ انہوں نے واقعے کی شفاف اور ایک مقررہ وقت کے اندر تفتیش کی ضرورت پر زور دیا۔ نیشنل کانفرنس کے رکن بھارتی پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے اس واقعے کو اندوہناک قرار دیتے ہوئے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے نوجوان کے قتل پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل پر زور دیا کہ وہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ پیپلز کانفرنس نے بھی قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے آئینی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ پارٹی نے کہا کہ ماورائے عدالت اقدامات جمہوری اقدار کے منافی ہیں اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد کو ختم کرتے ہیں۔ سول سوسائٹی کارکن طالب حسین نے کہا کہ پرویز کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اسے ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ طالب حسین نے کہا کہ پرویز کو اپنے بہنوئی کے ہمراہ ایک چوکی پر روکا گیا اور بغیر کسی وجہ کے گولی مار دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا مطالبہ کیا بھارتی پولیس سول سوسائٹی نوجوان کے کرتے ہوئے پولیس کے واقعے کی قتل کی

پڑھیں:

رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد

رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔

ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔

پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی