سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کی بھارتی پولیس کے ہاتھوں نوجوان کے بہیمانہ قتل کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
سول سوسائٹی کے کارکنوں نے جموں کے علاقے سورے چک میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں 21 سالہ نوجوان محمد پرویز کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے جموں کے علاقے سورے چک میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں 21 سالہ نوجوان محمد پرویز کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے پرویز احمد کو گزشتہ روز محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیا تھا۔ پولیس نے نوجوان کے وحشیانہ قتل پر پردہ ڈالنے کیلئے دعوی ٰ کیا کہ وہ فورسز اور مشتبہ افراد کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آنے کے باعث مارا گیا۔ تاہم نوجوان کے لواحقین اور سول سوسائٹی کارکنوں نے پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز کو دانستہ طور پر گولی ماری گئی ہے۔
مقبوضہ علاقے کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نوجوان کے قتل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ایکس پر لکھا ”پولیس کو بے لگام ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے“۔ انہوں نے واقعے کی شفاف اور ایک مقررہ وقت کے اندر تفتیش کی ضرورت پر زور دیا۔ نیشنل کانفرنس کے رکن بھارتی پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے اس واقعے کو اندوہناک قرار دیتے ہوئے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے نوجوان کے قتل پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل پر زور دیا کہ وہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ پیپلز کانفرنس نے بھی قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے آئینی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ پارٹی نے کہا کہ ماورائے عدالت اقدامات جمہوری اقدار کے منافی ہیں اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد کو ختم کرتے ہیں۔ سول سوسائٹی کارکن طالب حسین نے کہا کہ پرویز کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اسے ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ طالب حسین نے کہا کہ پرویز کو اپنے بہنوئی کے ہمراہ ایک چوکی پر روکا گیا اور بغیر کسی وجہ کے گولی مار دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا مطالبہ کیا بھارتی پولیس سول سوسائٹی نوجوان کے کرتے ہوئے پولیس کے واقعے کی قتل کی
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔