Express News:
2026-06-03@04:05:26 GMT

کیا یہ ہے وہ پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT

بانی پاکستان قائد اعظمؒ نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا تھا’’ اقلیتیں جہاں بھی ہوں، ان کے تحفظ کا انتظام کیا جائے گا، میں نے ہمیشہ یقین کیا اور میرا یقین غلط نہیں ہے۔ کوئی حکومت اور کوئی مملکت اپنی اقلیتوں کو اعتماد اور تحفظ کا یقین دلائے بغیرکامیابی کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتی، کوئی حکومت ناانصافی اور جانبداری کی بنیادوں پرکھڑی نہیں رہ سکتی، اقلیت کے ساتھ ظلم و تشدد اس کی بقا کا ضامن نہیں ہو سکتا۔

اقلیتوں میں انصاف و آزادی، امن و مساوات کا احساس پیدا کرنا ہر انتخابی طرز حکومت کی بہترین آزمائش ہے، ہم دنیا کے کسی متمدن ملک سے پیچھے نہیں رہ سکتے، مجھے یقین ہے جب وقت آئے گا تو ہمارے ملکی خطوں کی اقلیتوں کو ہماری روایات، ثقافت اور اسلامی تعلیم سے نہ صرف انصاف و صداقت ملے گی بلکہ انھیں ہماری کریم النفسی اور عالی ظرفی کا ثبوت بھی مل جائے گا، ہم مول تول نہیں کرتے، ہم لین دین کے عادی نہیں، ہم صرف یقین پر عمل رکھتے ہیں اور صرف تدبر اور عملی سیاست پر اعتماد رکھتے ہیں۔‘‘

 قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے مذکورہ خطبہ کو آج کے حالات کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو سب کچھ برعکس نظر آتا ہے، یہاں تو معماران پاکستان اور محبان وطن کا تحفظ نظر نہیں آتا ہے، قائد اعظم کی توقعات اور ان کی تعلیمات کا مذاق لوگوں پر ظلم و ناانصافی کرکے اڑایا جا رہا ہے، قائد اعظم نے ایک مضبوط پاکستان کا خواب دیکھا تھا کہ تعمیر وطن کے لیے لاکھوں لوگوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ یہ ملک پاکستان جوکہ نوزائیدہ مملکت ہے آنے والے دنوں میں یہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پرگامزن ہوگا ہر کسی کو اس کے حقوق دیے جائیں گے اور انصاف کا پرچم بلند ہوگا، خواتین کا احترام ہوگا۔

قائد اعظم قومی زندگی میں خواتین کے کردار کی اہمیت کے کس قدر قائل تھے انھوں نے ایک موقع پرکہا کہ زندگی کی جدوجہد میں خواتین کو شریک ہونے کا موقعہ فراہم کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ انھوں نے یاد دلایا آپ کو یاد ہوگا کہ پٹنہ کے اجلاس میں خواتین کی ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی انھوں نے خواتین کے حقوق اور ان کی ذمے داریوں کے بارے میں فرمایا خواتین اپنے گھروں میں اور باپردہ رہ کر بھی بہت زیادہ کام کر سکتی ہیں۔ 

ہم نے یہ کمیٹی اسی غرض سے بنائی تھی کہ وہ مسلم لیگ کے کاموں میں حصہ لے سکیں۔ اس کمیٹی کے فرائض میں عورتوں میں زیادہ سے زیادہ سیاسی شعور بیدار کرنا تھا۔ قائد اعظم نے 22 نومبر 1942 کو اسلامیہ کالج فار ویمن کوپر روڈ لاہور میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے اس بات سے آگاہ کیا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک بام عروج پر نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ اس کی خواتین مردوں کے شانہ بہ شانہ مصروف کار نہ ہوں، ہم ناپسندیدہ اور بری رسوم کا شکار ہیں۔ 

یہ انسانیت کے خلاف ایک جرم کے مترادف ہے، ہماری خواتین قیدیوں کی طرح چار دیواری میں بند ہیں۔ میرا مقصد یہ نہیں کہ مغربی طرز زندگی کی خامیوں اور برائیوں کو اپنا لیں، ہمیں کم ازکم اپنی خواتین کو وہ معیار اور وقار تو مہیا کرنا چاہیے جو اسلامی نظریات کی روشنی میں انھیں ملنا چاہیے۔ اسلام میں اس قابل مذمت صورت حال کی کہیں اجازت نہیں، جس میں ہماری خواتین اس وقت زندگی گزار رہی ہیں۔

پاکستان کا خواب دیکھنے والے ڈاکٹر محمد اقبال نے عورتوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا ہے۔’’ عمومیات کو چھوڑکر اگر خصوصیات پر نظر کی جائے تو عورت کی تعلیم سب سے زیادہ توجہ کی محتاج ہے۔ عورت حقیقت میں تمدن کی جڑ ہے، ماں اور بیوی دو ایسے پیارے الفاظ ہیں کہ تمام مذہبی اور تمدنی نیکیاں ان میں مستور ہیں، اپنی قوم کی عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ مرد کی تعلیم ایک فرد واحد کی تعلیم ہے مگر عورت کو تعلیم دینا حقیقت میں تمام خاندان کو تعلیم دینا ہے۔ دنیا میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، اگر اس قوم کا آدھا حصہ جاہل مطلق رہ جائے۔‘‘ وہ اپنے کلام میں اس کی عظمت اور اس کی موجودگی اس کی اہمیت کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی دُرّج کا درِّ مکنوں

قائد اعظم نوجوانوں کے جوش و خروش اور ایک علیحدہ وطن اور آزادی کی تحریک میں پیش پیش تھے وہ جانی و مالی ہر طرح کی قربانیاں پیش کر رہے تھے۔ قائد اعظم نے ان کے عزم صمیم اور ہمت مرداں مدد خدا کے جذبے سے بے حد خوش تھے۔تحریک پاکستان کے ایک کارکن حکیم آفتاب حسن قرشی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایک ملاقات کے دوران میں نے قائد اعظم سے عرض کیا کہ قائد اعظم ! مسلمان نوجوان حصول پاکستان کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ 

آپ کی قیادت پر کامل یقین رکھتے ہیں، جب بھی آپ نوجوانوں کو پکاریں گے، انھیں آپ فوج کے ہر اول دستے میں پائیں گے۔ انھوں نے جواباً کہا کہ نوجوانوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، مجھے ان سے یہی توقع ہے کہ وہ جنگ آزادی میں بیش از بیش حصہ لیں گے، قائد اعظم نے نوجوانوں کی قومی خدمات پر اظہار ستائش کرتے ہوئے فرمایا’’ مسلم لیگ کی نشاۃ ثانیہ اور تحریک پاکستان میں نوجوانوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور نوجوان ہی میرے قابل اعتماد سپاہی ثابت ہوئے ہیں۔

اب ہم قائد اعظم کی جہد مسلسل اور علامہ اقبال کے افکارکا جائزہ لیں تو ہمیں آج کا پاکستان اس میں بسنے والے نوجوان اور خواتین کا استحصال نظر آتا ہے، ظلم و بربریت کی کہانی نے پاکستان کی سرزمین کو خون سے نہلا دیا ہے۔ ہر روز نوجوانوں کو قتل کیا جاتا ہے، لوٹ مارکی جاتی ہے، قدم قدم پر دشمنان پاکستان گھات لگائے بیٹھے ہیں، قائد اعظم کا بنایا ہوا پاک ملک جس کی بنیاد کلمہ پر قائم ہوئی ہے وہ ملک ناپاک ہو چکا ہے، عزت و تحفظ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ 

اب خواتین کو معمولی اور سیاسی و اصولی جنگ کے دوران مارا جاتا ہے، تشدد کیا جاتا ہے، جیلوں میں بند کیا جاتا ہے، مرد و زن پر جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں، وڈیرے اور سردار عورت کو سر راہ بہیمانہ قتل کی اجازت دیتے ہیں، باقاعدہ جرگہ بٹھایا جاتا ہے یہاں قانون ہے نہ اسلام ہے نہ انسانیت ہے اور نہ ہمدردی، نکاح کو جرم قرار دے کر صرف ایک عورت اور اس کے شوہر کو ببانگ دہل پچاس لوگوں کا گروہ بیابان و سنسان جگہ لے جا کر قتل کر دیتے ہیں۔

بلوچستان کا واقعہ انسانیت کے پرخچے اڑانے میں آگے رہا، اس سے قبل بھی کارا کاری، نوجوان جوڑوں کو محض پسند کی شادی کرنے پر قتل کیا جاتا رہا ہے ادھر انصاف اور قانون خاموشی اختیار کر لیتا ہے لیکن بے قصور اور محب وطن لوگوں کو بغیر ثبوت کے گرفتار کیا جاتا ہے جیلوں میں ٹھونسا جاتا ہے، جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں محض اپنی حکومت کی بقا کے لیے۔کیا یہ ہے قائد اعظم کا پاکستان؟ انھوں نے اس مقصد کے لیے قربانی دی تھی؟ لوگ اپنا مال و اسباب اور اپنوں کے لاشے بے گور و کفن چھوڑ کر اپنے ملک میں آئے تھے کہ وہ اب آزاد قوم ہیں لیکن آج جو پاکستان کا حال ہے اسے دیکھ کر ہر ذی شعور آنسو بہا رہا ہے۔ بڑی مشکل میں زندگی کے دن گزار رہا ہے، بھوک، افلاس، بے روزگاری اور عدم تحفظ نے جیتے جی مار دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا جاتا ہے انھوں نے کی تعلیم رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان