صبا قمر نے عید کس منفرد انداز میں گزاری؟ اداکارہ کی پوسٹ نے دل جیت لیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
عید کے موقع پر جب تمام شوبز شخصیات اپنی دیدہ زیب تصاویر سے سوشل میڈیا کی زینت بڑھا رہی تھیں، معروف اداکارہ صبا قمر نے ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے عید کی کوئی تصویر شیئر نہیں کی، جس پر مداحوں کے تجسس نے انہیں وجہ بتانے پر مجبور کردیا۔
صبا قمر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر مداحوں کو بتایا کہ اس بار انہوں نے جان بوجھ کر عید کی روایتی تیاریوں سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’میرے پیارو! میں جانتی ہوں آپ میری عید کی تصاویر کے منتظر تھے، لیکن اس بار کوئی خاص جھلک تھی ہی نہیں۔‘‘
اداکارہ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ کئی مہینے مسلسل کام اور سفر میں گزرنے کے بعد انہیں آرام کی شدید ضرورت تھی۔ ’’میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ مجھے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے سچا، سادہ اور روح کو سکون دینے والا آرام چنا‘‘۔
انہوں نے اپنی عید کی روٹین شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یہ تین دن بالوں میں تیل لگا کر، مزیدار کھانے کھا کر اور خاموش دعائیں مانگتے ہوئے گزارے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی انسان کو رک کر سانس لینے اور اپنے آپ کو وقت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
صبا قمر نے مداحوں سے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی اپنی معمول کی روٹین میں واپس آ جائیں گی۔ انہوں نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ کہ آپ ہمیشہ مجھے سمجھتے ہیں اور میری کمی کو محسوس کرتے ہیں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔