اداکارہ ثانیہ سعید ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل پر گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کی سینئر اداکارہ ثانیہ سعید ٹک ٹاکر ثنا یوسف اور خواتین کے خلاف نفرت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔
ثانیہ سعید حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کے بہیمانہ قتل سمیت معاشرتی رویوں اور صنفی امتیاز پر تفصیل سے بات کی۔
ثانیہ معصوم ٹک ٹاکر کا نام سنتے ہی جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ وہ روز خواتین کی ہلاکتوں کی خبریں سن کر جاگتی ہیں صرف ثنا یوسف ہی نہیں بلکہ اور کتنی ہی خواتین اسی طرح قتل کر دی جاتی ہیں۔ اداکارہ نے اس پر شدید دکھ کا اظہار کیا کہ ہمارا معاشرہ ایسے واقعات کو معمول کا حصہ بنا چکا ہے۔
A post common by Rafay Mahmood (@rafaymahdood)
انہوں نے کہا کہ ہم ظلم کو جواز دے کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی رویہ خطرناک ہے۔ ثناء یوسف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ایک معصوم لڑکی تھی جو کسی تنازع میں ملوث نہیں تھی نہ ہی کوئی ایسا کام کر رہی تھی کہ جس سے کسی کو کوئی پریشانی ہو پھر بھی اسے نشانہ بنایا گیا۔
ثانیہ نے زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ جب ہم ’میرا جسم، میری مرضی‘ جیسے نعرے لگاتے ہیں تو وہ اسی ناانصافی کے خلاف ہوتے ہیں کہ عورت کا ہاں کہنا یا نہ کہنا اس کے اپنے اختیار میں ہونا چاہیے۔
اداکارہ نے معاشرے میں مردوں کی جذباتی ناپختگی کو بھی مسئلے کی جڑ قرار دیا اور کہا کہ یہ تشدد صرف خواتین ہی نہیں، بلکہ خود مردوں کی بے بسی کی بھی علامت ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ