پاکستان میں آئندہ مالی سال 2025 سے 2026 کے لیے وفاقی حکومت نے 175 کھرب  سے زائد کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا جس کے بعد صارفین سیخ پا ہیں کہ بجٹ کے بعد عام آدمی کو ٹیکس کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا اور اب پاکستان میں رہنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین بھی اس حوالے سے مختلف تبصرے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ماہر معاشیات شہباز رانا نے کہا کہ بجٹ پڑھ کر مجھے لگا کہ یہ بجٹ پاکستانیوں کے لیے نہیں ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر 35 فیصد ٹیکس کے علاوہ 10فیصد جرمانہ بھی ہے گھروں پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔

بجٹ پڑھ کر مجھے لگا کہ یہ بجٹ پاکستانیوں کے لیے نہیں ہے تنخواہ دار طبقے پر 35 فیصد ٹیکس کے علاوہ 10فیصد جرمانہ بھی ہے گھروں پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ! شہباز رانا ،
دیکھیں سٹاک مارکیٹ کے پوائنٹس میں خوبصورت طریقے سےاضافہ ہو رہا ہے ! بیرسٹر عقیل کے جواب پر شہباز رانا مسکرا دیے pic.

twitter.com/8WRhAl8Clu

— Wajahat Sami (@Wajahat_PTI_) June 10, 2025

وقار خان نے صحافی آصف بشیر چوہدری کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کے لیے 9 کروڑ، باغیچے کے لیے 4 کروڑ اور صرف وزیراعظم کی ڈسپنسری کے لیے ڈیڑھ کروڑ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے عطیہ دینے کے لیے بھی بجٹ میں 22 کروڑ رکھا گیا ہے وزیراعظم اگر کوئی عطیہ بھی دیں گے تو وہ عوام کے پیسوں سے دیں گے۔

بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کے لیے نو کروڑ، باغیچے کے لیے چار کروڑ اور صرف وزیراعظم کی ڈسپنسری کے لیے ڈیڑھ کروڑ رکھا گیا ہے
وزیراعظم کے عطیہ دینے کے لیے بھی بائیس کروڑ رکھا گیا ہے وزیراعظم اگر کوئی عطیہ بھی دیں گے تو وہ عوام کے پیسوں سے دیں گے pic.twitter.com/YgXIyAKsgC

— Waqar khan (@Waqarkhan123) June 11, 2025

ضیغم خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اتنی موثر ہے کہ اس کے کارندے پاکستان کے ہر شہر اور ہر قصبے میں ہر ریڑھی والے سے ہر روز پرائیویٹ ٹیکس وصول کرتے ہیں لیکن اتنی غیر موثر ہے کہ وہ سپر سٹور سے سال میں ایک بار ٹیکس نہیں لے سکتی۔

حکومت اتنی موثر ہے کہ اس کے کارندے پاکستان کے ہر شہر اور ہر قصبے میں ہر ریڑھی والے سے ہر روز پرائیویٹ ٹیکس وصول کرتے ہیں لیکن اتنی غیر موثر ہے کہ وہ سپر سٹور سے سال میں ایک بار ٹیکس نہیں لے سکتی۔ pic.twitter.com/sODp9HFAsI

— Zaigham Khan (@zaighamkhan) June 11, 2025

یار محمد خان بنیازی نے کہا کہ ریلیف صرف دکھاوے کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ بجٹ غریب اور متوسط طبقے کے لیے مزید مشکلات لے کر آیا ہے، جبکہ ریلیف محض نمائشی ہے۔ مہنگائی بڑھے گی، عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ یہی غریب مکاؤ بجٹ کی اصل حقیقت ہے۔

یہ بجٹ عوام دشمن ہے، اور میں اسے غریب مکاؤ بجٹ کہونگا۔وفاقی حکومت نے ایک بار پھر بڑے دعوے کیے، مگر بجٹ کی تفصیل دیکھیں تو ریلیف صرف دکھاوے کے لیے دیا گیا ہے۔تنخواہ دار طبقے کو جس ریلیف کا بار بار اعلان کیا جا رہا تھا، اس کی حقیقت یہ ہے:
????سالانہ 12 لاکھ آمدنی والے کو ماہانہ 2000… pic.twitter.com/Oql2i8FpbV

— Yar Muhammad Khan Niazi (@YarMKNiazi) June 10, 2025

سعید اللہ خان نے طنزاً لکھا کہ بجٹ میں عوام کی صحت کے لیے ’ھوالشا فی‘ تعلیم کےلئے ’رب زدنی علما‘ اور کھانے کیلئے ’واللہ خیر رازقین‘ کے وظیفے مقرر کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں عوام کی صحت کیلئے "ھوالشا فی" تعلیم کےلئے "رب زدنی علما" اور کھانے کیلئے "واللہ خیر رازقین" کے وظیفے مقرر کیے گئے..#Budget2025 pic.twitter.com/slj37sGMaK

— Saeed Ullah Khan (@JUI_NW) June 11, 2025

سینیٹر مشتاق احمد خان نے لکھا کہ وفاقی بجٹ میں یہ فلاحی نہیں سیکوریٹی، عسکری بجٹ ہے، ایسے دستور کو صبحِ بے نور کوہم نہیں مانتے۔

pic.twitter.com/YuJquWaZ0j

— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) June 10, 2025

اطہر کاظمی نے لکھا کہ سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد پیش کیا جانے والا یہ بجٹ کیا پارلیمنٹ عوامی امنگوں کے مطابق تبدیل کر سکتی ہے؟ یا پھر پارلیمنٹ کے اجلاس کا کروڑوں روپے خرچہ ہی عوام کے حصے میں آئے گا۔ جس پارلیمنٹ کے اسپیکر کی تنخواہ 2 لاکھ سے13 لاکھ کر دی گئی، وہاں عوام سے قربانی مانگی جا رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ IMF کی منظوری کے بعد پیش کیا جانے والا یہ بجٹ، کیا پارلیمنٹ عوامی امنگوں کے مطابق تبدیل کر سکتی ہے؟ یا پھر پارلیمنٹ کے اجلاس کا کروڑوں روپے خرچہ ہی عوام کے حصے میں آئے گا۔جس پارلیمنٹ کے سپیکر کی تنخواہ دو لاکھ سے13 لاکھ کر دی گئی، وہاں عوام سے قربانی مانگی جا رہی ہے pic.twitter.com/5OGymZjSWr

— Ather Kazmi (@2Kazmi) June 10, 2025

ایک ایکس صارف نے لکھا کہ اس بجٹ کے بعد پاکستان کے اندر رہنا مشکل ہو گیا ہے اور پاکستان سے باہر جانا حکومت نے مہنگا کر دیا ہے۔

شہباز رانا ????????????

اس بجٹ کے بعد پاکستان کے اندر رہنا مشکل ہو گیا ہے اور پاکستان سے باہر جانا حکومت نے مہنگا کر دیا ہے ! pic.twitter.com/OoosvbBPZu

— Wajahat Sami (@Wajahat_PTI_) June 11, 2025

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ بجٹ 2025-26 شہباز شریف وزیر خزانہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہباز شریف پارلیمنٹ کے پاکستان کے موثر ہے کہ حکومت نے عوام کے لکھا کہ دیا گیا کے لیے یہ بجٹ کر دیا کے بعد کہا کہ دیں گے کہ بجٹ

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم