ریلوے کے میکنیکل ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ، افسران کی سرزنش
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
لاہور:
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے افسران کو کوچز کی حالت بہتر کیے بغیر عید کی طویل چھٹیاں گزارنے پر سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کوچز میں اے سی یونٹس لگانے کے بجائے آپ لوگ چھٹے پر تھے۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جہاں مکینیکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
وزیرریلوے نے کہا کہ جرمن کوچز میں لگانے کے لیے اے سی کے 12 یونٹس آئے ہوئے تھے، جنہیں کوچز میں لگانے کے بجائے آپ لوگ چھٹی پر تھے۔
افسران سے انہوں نے کہا کہ کوچز کی حالت دیکھیں، آپ نے عید کی چھٹیاں کیسے منا لیں، مسافروں کو ہر صورت بہتر سفر کروانا ہو گا، چاہے آپ کو راتوں کو جاگنا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹرینوں کے اے سی بند ہوتے رہے تو آپ کے دفاتر میں نہیں چلیں گے، افسران موقع پر جا کر کوچز کی فٹنس چیک کریں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فیلڈ میں موقع پر جا کر انسپکشن نہ کرنے والے افسران کو ٹرانسفر کیا جائے گا، ورک شاپ اپنی کارکردگی بہتر بنائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 69 لوکوموٹیوز اسکریپ میں بیچنے نہیں دوں گا اور انہیں قابل استعمال بنایا جائے گا۔
انہوں نے 31 دسمبر تک 820 فریٹ ویگنز کی فراہمی کا ٹاسک دے دیا اور کہا کہ کل آمدن کا 70 فیصد مال گاڑیوں سے حاصل کریں گے۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بعد میں ٹرینوں کی ڈائننگ کاروں کے منتظمین سے ملاقات کی اور کہا کہ کھانے کی صفائی اور معیار پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کو مناسب دام میں گھر جیسا کھانا ملنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کہا کہ
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔