امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں ابتدا میں امید تھی کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکنے پر آمادہ ہو جائے گا، لیکن اب وہ اس امکان کو کمزور ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:تنازع کھڑا ہوا تو تمام امریکی فوجی اڈے تباہ کردیں گے، ایران نے خبردار کردیا

صدر ٹرمپ کے بقول ایران جوہری طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، جو امریکا کسی صورت پورا نہیں ہونے دے گا۔

دوسری طرف ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادے نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود تمام امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کا پوری طاقت سے جواب دے گا۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران بھی کسی ممکنہ جنگ کے لیے تیار بیٹھا ہے اور دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بحرین اور عراق میں موجود امریکی سفارتی اور غیر سفارتی عملے کو واپس بلانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے اسرائیلی ایٹمی دستاویزات کیسے حاصل کیں؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اہلکاروں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کیونکہ خطے کی صورتِ حال خطرناک ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکا اپنی افواج اور شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس ساری صورتحال کے تناظر میں جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات مزید دھندلا گئے ہیں۔ ایران اور امریکا اب تک 5 مرتبہ مذاکرات کر چکے ہیں، جن کا مقصد 2015 کے جوہری معاہدے کو دوبارہ بحال کرنا یا اس کی جگہ نیا معاہدہ طے کرنا ہے۔

چھٹے دور کی بات چیت آئندہ اتوار کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والی ہے۔ تاہم موجودہ بیانات سے لگتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے اور کسی مثبت پیش رفت کا امکان فی الحال کم دکھائی دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران جوہری مذاکرات صدر ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران جوہری مذاکرات

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار