ٹرمپ کے صدر بننے کے بعدامریکا کی عالمی سطح پر ساخت متاثر
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:ایک عالمی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے دنیا بھر میں امریکا کا تشخص متاثر ہوا ہے اور اس کی حمایت اور مقبولیت میں کمی آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو جاری ہونے والے ایک عالمی سروے کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد سے دنیا کے بیشتر حصوں میں امریکا کا تشخص تیزی سے خراب ہوا ہے، اور ٹرمپ کے کردار اور پالیسیوں دونوں کو سروے میں بہت کم نمبر پر ملے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے عالمی سروے کے نتائج میں سامنے آیا کہ سروے کیے گئے 24 ممالک میں سے 15 میں امریکا کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔
ٹرمپ کو اپنے پڑوسی ملک میکسیکو میں سب سے کم نمبر ملے، جسے وہ طویل عرصے سے حقیر سمجھتے رہے ہیں اور مائیگریشن کے معاملے پر اس پر دباو¿ ڈالتے رہے ہیں۔سروے کے مطابق 91 فیصد میکسیکن نے کہا کہ انہیں اس بات پر کوئی اعتماد نہیں کہ ٹرمپ عالمی امور میں درست طور پر کردار ادا کرپائیں گے۔
ٹرمپ کی وجہ سے مجموعی طور پر امریکا کے بارے میں منفی تاثرات میں اضافہ ہوا ہے۔میکسیکو اور کینیڈا، جس کے بارے میں ٹرمپ نے اشتعال انگیز طور پر کہا تھا کہ اسے امریکا کی 51 ویں ریاست ہونا چاہیے، دونوں پڑوسی ممالک میں اب اکثریت امریکا کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جبکہ پچھلے سال جب جو بائیڈن صدر تھے تو امریکا ان ممالک کے عوام کی نگاہوں میں پسندیدہ ملک تھا۔
یورپ کے بیشتر حصوں میں بھی امریکا کے بارے میں خیالات تاریک ہو گئے ہیں، پولینڈ میں جو یوکرین کا فرنٹ لائن اتحادی ہے، امریکا کے حوالے سے منفی رائے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔سویڈن، جو یوکرین پر حملے کے بعد بائیڈن کے دور میں نیٹو میں شامل ہوا تھا، میں سروے کے دوران لوگوں نے امریکا کو بدترین نمبر دیے، سروے کے 79 فیصد شرکا نے امریکا کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔
سروے کیے گئے تمام ممالک میں لوگوں کی اکثریت یوکرین، غزہ، امیگریشن اور موسمیاتی تبدیلی سمیت ٹرمپ کی تمام اہم عالمی پالیسیوں سے اختلاف رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی سروے کے 80 فیصد شرکا نے ٹرمپ کو مغرور اور صرف 28 فیصد نے انہیں ایماندار قرار دیا۔غزہ تنازع میں اپنے اتحادی (امریکا) کی مضبوط حمایت حاصل کرنے والے اسرائیل میں امریکا کے بارے میں سب سے زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا گیا جہاں سروے کے 83 شرکا کی رائے مثبت رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا کے بارے میں میں امریکا سروے کے ہوا ہے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور