data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن:ایک عالمی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے دنیا بھر میں امریکا کا تشخص متاثر ہوا ہے اور اس کی حمایت اور مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو جاری ہونے والے ایک عالمی سروے کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد سے دنیا کے بیشتر حصوں میں امریکا کا تشخص تیزی سے خراب ہوا ہے، اور ٹرمپ کے کردار اور پالیسیوں دونوں کو سروے میں بہت کم نمبر پر ملے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے عالمی سروے کے نتائج میں سامنے آیا کہ سروے کیے گئے 24 ممالک میں سے 15 میں امریکا کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

ٹرمپ کو اپنے پڑوسی ملک میکسیکو میں سب سے کم نمبر ملے، جسے وہ طویل عرصے سے حقیر سمجھتے رہے ہیں اور مائیگریشن کے معاملے پر اس پر دباو¿ ڈالتے رہے ہیں۔سروے کے مطابق 91 فیصد میکسیکن نے کہا کہ انہیں اس بات پر کوئی اعتماد نہیں کہ ٹرمپ عالمی امور میں درست طور پر کردار ادا کرپائیں گے۔

ٹرمپ کی وجہ سے مجموعی طور پر امریکا کے بارے میں منفی تاثرات میں اضافہ ہوا ہے۔میکسیکو اور کینیڈا، جس کے بارے میں ٹرمپ نے اشتعال انگیز طور پر کہا تھا کہ اسے امریکا کی 51 ویں ریاست ہونا چاہیے، دونوں پڑوسی ممالک میں اب اکثریت امریکا کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جبکہ پچھلے سال جب جو بائیڈن صدر تھے تو امریکا ان ممالک کے عوام کی نگاہوں میں پسندیدہ ملک تھا۔

یورپ کے بیشتر حصوں میں بھی امریکا کے بارے میں خیالات تاریک ہو گئے ہیں، پولینڈ میں جو یوکرین کا فرنٹ لائن اتحادی ہے، امریکا کے حوالے سے منفی رائے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔سویڈن، جو یوکرین پر حملے کے بعد بائیڈن کے دور میں نیٹو میں شامل ہوا تھا، میں سروے کے دوران لوگوں نے امریکا کو بدترین نمبر دیے، سروے کے 79 فیصد شرکا نے امریکا کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔

سروے کیے گئے تمام ممالک میں لوگوں کی اکثریت یوکرین، غزہ، امیگریشن اور موسمیاتی تبدیلی سمیت ٹرمپ کی تمام اہم عالمی پالیسیوں سے اختلاف رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی سروے کے 80 فیصد شرکا نے ٹرمپ کو مغرور اور صرف 28 فیصد نے انہیں ایماندار قرار دیا۔غزہ تنازع میں اپنے اتحادی (امریکا) کی مضبوط حمایت حاصل کرنے والے اسرائیل میں امریکا کے بارے میں سب سے زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا گیا جہاں سروے کے 83 شرکا کی رائے مثبت رہی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا کے بارے میں میں امریکا سروے کے ہوا ہے

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار