چین اور امریکا کے درمیان لندن میں تجارتی معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لندن میں اعلیٰ حکام کے درمیان دو دن کی بات چیت کے بعد چین کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اورامریکی صدرکی طرف سے حتمی منظوری کے بعد امریکہ کو درکار نایاب دھاتیں مل سکیں گی جبکہ چینی طلبا امریکی کالجز میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔
ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے لکھا کہ ’چین کے ساتھ ہمارا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی حتمی منظوری انھوں نے اور چین کے صدر نے دینی ہے۔
میگنٹس اور دیگر کوئی بھی ضروری نایاب دھات، چین کی طرف سے فراہم کی جائے گی اور اسی طرح ہم چین کو وہ فراہم کریں گے جس پر اتفاق کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کرنے والے چینی طلبا اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تعلقات بہترین ہیں اور اس وقت ’امریکہ کو کل 55 فیصد ٹیرف حاصل ہو رہا ہے جبکہ چین کو 10 فیصد مل رہا ہے۔
لندن میں ہونے والی میٹنگ کے ایجنڈے میں نایاب زمینی معدنیات کی چینی برآمدات جو کہ جدید ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم ہیں ان مذاکرات کا سرفہرست نکتہ تھا۔
مذاکرات کے بعد امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں نایاب زمینی معدنیات اور میگنٹس پر پابندیوں کو حل کیا جانا چاہیے۔
ہاورڈ لوٹنک نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم جنیوا میں جن امور پر اتفاق رائے کر چکے ہیں اب اس کے نافذ کے ایک فریم ورک پر ہم پہنچ گئے ہیں۔‘
انھوں نےکہا کہ ایک بار جب دونوں ممالک کے صدور اس کی منظوری دے دیں گے تو ہم اس پر عمل درآمد شروع کر دیں گے۔
مذاکرات کا نیا دور گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے رہنما شی جن پنگ کے درمیان فون کال کے بعد ہوا جسے امریکی صدر نے ’بہت اچھی بات چیت‘ قرار دیا تھا۔
چین کے نائب وزیر تجارت لی چینگ گانگ نے کہا کہ ’دونوں ممالک نے اصولی طور پر 5 جون کو فون کال کے دوران دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک فریم ورک تک پہنچ گئے تھے اور پھر جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں اس پر اتفاق رائے ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے درمیان نے کہا کہ کے بعد چین کے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔